گل پلازہ آتشزدگی: کراچی نہیں، پورے پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو محض ایک اور ’حادثہ‘، ’شارٹ سرکٹ‘ یا حسبِ روایت ’اللہ کی مرضی‘ کہہ کر فائل بند کردینا آسان ضرور ہے، مگر یہ دراصل سچ سے فرار کے مترادف ہے۔ یہ سانحہ نہ کراچی کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ ہے، نہ سندھ کو بدنام کرنے کی کوئی سازش بلکہ یہ پورے پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ اور کھلا سوالیہ نشان ہے، جو ہمارے نظام، اداروں اور اجتماعی خاموشی پر چسپاں ہو چکا ہے۔
پاکستان میں آتشزدگی کے واقعات اب محض اتفاق نہیں رہے، بلکہ ایک مستقل پیٹرن اختیار کرچکے ہیں۔ کہیں کمرشل پلازہ جلتا ہے، کہیں فیکٹری، کہیں گودام اور کہیں جنگلات۔ حیرت انگیز طور پر تقریباً ہر واقعے کے بعد سرکاری بیانیہ ایک ہی ہوتا ہے:
’آگ حادثاتی تھی۔‘
سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی حادثات ہیں تو پھر یہ حادثے مخصوص عمارتوں، مخصوص حالات اور مخصوص مفادات کے گرد ہی کیوں گھومتے ہیں؟
گل پلازہ جیسے کمرشل مراکز میں آگ لگنے کے بعد کئی بنیادی سوال خود بخود جنم لیتے ہیں:
کیا یہ عمارت فائر سیفٹی قوانین پر پوری اترتی تھی؟
کیا ایمرجنسی ایگزٹس، فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم نصب تھے؟
اگر نہیں تھے تو این او سی کس نے جاری کیا؟
کن افسران اور انسپکٹرز نے آنکھیں بند کر کے فائلیں کلیئر کیں؟
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کوتاہی ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ کوتاہی کے پیچھے کون سا نظام، کون سی خاموشی اور کون سے مفادات کارفرما تھے۔ ان انسپکٹرز کے اثاثے، طرزِ زندگی اور بینک بیلنس کیا کہانی سناتے ہیں؟ بدقسمتی سے، یہ وہ سوالات ہیں جن سے ہمارے ادارے ہمیشہ نظریں چرا لیتے ہیں۔
پاکستان میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کو محض کمزور کہنا حقیقت کو نرم الفاظ میں بیان کرنا ہوگا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے اکثر مفادات کی نذر ہو چکے ہیں۔ قوانین موجود ہیں، مگر عملدرآمد صرف کاغذوں تک محدود ہے۔
فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس رشوت کے عوض جاری ہوتے ہیں، غیر قانونی فلورز کو ’ریگولرائز‘ کر دیا جاتا ہے، اور انسپکٹرز کروڑوں کماتے ہیں جبکہ شہری اپنی جانوں سے قیمت ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ بعض آتشزدگیاں انشورنس کلیمز کے لیے ’فائدہ مند‘ ثابت ہوتی ہیں۔ کہیں کرایہ داروں کو نکالنے کے لیے، کہیں پرانی عمارت گرانے یا زمین کی قیمت بڑھانے کے لیے آگ ’حادثاتی طور پر‘ بھڑک اٹھتی ہے۔ مگر ان پہلوؤں پر کبھی سنجیدہ اور غیر جانبدار تفتیش نہیں ہوتی۔
ایسے سنگین واقعات کی تحقیقات صرف مقامی پولیس یا فائر بریگیڈ تک محدود رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ایس آئی، آئی بی اور دیگر کاؤنٹر انٹیلی جنس ادارے ان آتشزدگیوں کے پس پردہ مالی، انتظامی اور مجرمانہ روابط کی جانچ کریں۔ بلڈنگ کنٹرول، فائر ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ انسپکٹرز کے اثاثوں، طرزِ زندگی اور بیرونِ ملک سرمایہ کاری کی مکمل چھان بین ہو۔ انشورنس کمپنیوں اور عمارت مالکان کے درمیان مشکوک کلیمز اور معاہدوں کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ عدالتی نگرانی میں ایک آزاد جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جو محض رپورٹ دینے پر اکتفا نہ کرے بلکہ ذمہ داروں کے تعین تک جائے۔
جب ہر آگ کو ’حادثہ‘ کہہ کر دفن کر دیا جاتا ہے تو صرف فائلیں نہیں دفن ہوتیں، انصاف، انسانی جانوں کی قدر اور ریاستی ساکھ بھی راکھ ہو جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، اصل سوال یہ ہے کہ ہم سچ جاننا کیوں نہیں چاہتے؟ گل پلازہ کی آتشزدگی ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ اگر آج ہم نے اسے محض ایک اور واقعہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا تو کل یہی آگ کسی اور شہر، کسی اور پلازہ اور کسی اور انسانی المیے کی صورت میں ہمارے دروازے پر دستک دے گی۔
یہ کراچی کا مسئلہ نہیں، یہ سندھ کا مسئلہ نہیں یہ پاکستان کے نظام کا جلتا ہوا چہرہ ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔
سندھ حکومت کراچی گل پلازہ آتشزدگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت کراچی گل پلازہ ا تشزدگی گل پلازہ یہ ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔