بنگلادیش اسپورٹس ایڈوائزر کا اقدام، کھلاڑیوں کو اہم مشاورت کے لیے بلالیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیشی ٹیم کے بھارت نہ جانے کے معاملے پر بنگلادیش کے اسپورٹس ایڈوائزر ڈاکٹر آصف نذرل نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو طلب کرلیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کھلاڑیوں اور اسپورٹس ایڈوائزر کے درمیان ملاقات آج سہ پہر ہوگی جس میں موجودہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں ڈاکٹر آصف نذرل کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ سے متعلق حالیہ پیش رفت سے آگاہ کریں گے جبکہ حکومت کی جانب سے ایونٹ میں شرکت کے حوالے سے سرکاری مؤقف بھی واضح کیا جائے گا۔ اس موقع پر کھلاڑیوں کی آراء بھی لی جائیں گی تاکہ فیصلہ مشاورت سے کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر آصف نذرل بحران کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات اور مختلف آپشنز پر بھی کھلاڑیوں سے تبادلۂ خیال کریں گے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلادیشی ٹیم کے کچھ کھلاڑی اس تنازعے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے کے حق میں ہیں تاکہ ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔