پاکستان شدید معاشی و موسمی خطرات کی زد میں ہے، عالمی بینک کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ورلڈ بینک نے پاکستان کو ان ممالک میں شامل کر دیا ہے جو آئندہ برسوں میں شدید معاشی خطرات سے دوچار رہ سکتے ہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق بڑھتے ہوئے علاقائی تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، عالمی مالی حالات میں سختی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے پاکستان سمیت مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور افغانستان کے معاشی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ حالیہ برس میں بعض ابھرتی ہوئی معیشتوں کی شرحِ نمو توقعات سے بہتر رہی، مگر مجموعی عالمی منظرنامہ اب بھی شدید خدشات سے گھرا ہوا ہے۔
ورلڈ بینک کی جنوری 2026ء میں جاری ہونے والی گلوبل اکنامک پروسپیکٹس رپورٹ کے مطابق دنیا کے کئی کمزور ممالک کو ایک ساتھ کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مسلح تنازعات کی دوبارہ شدت، عالمی سطح پر تیل اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی نظام کی سختی ایسے عوامل ہیں جو ترقی پذیر معیشتوں کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں جب کہ پاکستان ان خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی شدید خطرات کا شکار قرار دیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب، شدید ہیٹ ویوز اور غیر معمولی موسمی جھٹکوں نے پاکستان کی زراعت، بنیادی ڈھانچے اور مالی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی آفات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں افراطِ زر، معاشی سست روی اور حکومتی مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ پاکستان کو باضابطہ طور پر تنازعات سے متاثرہ ملک قرار نہیں دیا گیا، تاہم رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال کے باعث سرحد پار عدم استحکام، مہاجرین کے دباؤ، تجارتی رکاوٹوں اور سیکورٹی اخراجات جیسے خطرات بدستور موجود ہیں۔ یہ عوامل پاکستان کے مالی حالات پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں اور معاشی بحالی کی رفتار کو مزید سست کر سکتے ہیں۔
ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نہ صرف تجارتی راستوں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور اجناس کی عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث پاکستان کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شدید موسمی واقعات جیسے سیلاب فصلوں کی تباہی، توانائی اور ٹرانسپورٹ نظام کو نقصان اور حکومتوں کو ہنگامی امداد پر بھاری وسائل خرچ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں، جس کے اثرات پاکستان کی دیہی معیشت اور خوراک کی قیمتوں میں اب بھی واضح ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کا امکان ہے، جس کی بڑی وجوہات میں درآمدات میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور سیلاب کے بعد ترسیلاتِ زر میں معمول پر آنے کا رجحان شامل ہے۔
ورلڈ بینک نے زور دیا ہے کہ پاکستان کے لیے محصولات میں اضافہ، اخراجات کی مؤثر نگرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور موسمیاتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور عدم استحکام سے متاثرہ ممالک کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہے رپورٹ میں پاکستان کے ورلڈ بینک گیا ہے کہ کے مطابق سکتے ہیں
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔