data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ورلڈ بینک نے پاکستان کو ان ممالک میں شامل کر دیا ہے جو آئندہ برسوں میں شدید معاشی خطرات سے دوچار رہ سکتے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق بڑھتے ہوئے علاقائی تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، عالمی مالی حالات میں سختی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے پاکستان سمیت مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور افغانستان کے معاشی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ حالیہ برس میں بعض ابھرتی ہوئی معیشتوں کی شرحِ نمو توقعات سے بہتر رہی، مگر مجموعی عالمی منظرنامہ اب بھی شدید خدشات سے گھرا ہوا ہے۔

ورلڈ بینک کی جنوری 2026ء  میں جاری ہونے والی گلوبل اکنامک پروسپیکٹس رپورٹ کے مطابق دنیا کے کئی کمزور ممالک کو ایک ساتھ کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مسلح تنازعات کی دوبارہ شدت، عالمی سطح پر تیل اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی نظام کی سختی ایسے عوامل ہیں جو ترقی پذیر معیشتوں کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں جب کہ پاکستان ان خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی شدید خطرات کا شکار قرار دیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب، شدید ہیٹ ویوز اور غیر معمولی موسمی جھٹکوں نے پاکستان کی زراعت، بنیادی ڈھانچے اور مالی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی آفات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں افراطِ زر، معاشی سست روی اور حکومتی مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اگرچہ پاکستان کو باضابطہ طور پر تنازعات سے متاثرہ ملک قرار نہیں دیا گیا، تاہم رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال کے باعث سرحد پار عدم استحکام، مہاجرین کے دباؤ، تجارتی رکاوٹوں اور سیکورٹی اخراجات جیسے خطرات بدستور موجود ہیں۔ یہ عوامل پاکستان کے مالی حالات پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں اور معاشی بحالی کی رفتار کو مزید سست کر سکتے ہیں۔

ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نہ صرف تجارتی راستوں بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور اجناس کی عالمی منڈیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث پاکستان کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شدید موسمی واقعات جیسے سیلاب فصلوں کی تباہی، توانائی اور ٹرانسپورٹ نظام کو نقصان اور حکومتوں کو ہنگامی امداد پر بھاری وسائل خرچ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں، جس کے اثرات پاکستان کی دیہی معیشت اور خوراک کی قیمتوں میں اب بھی واضح ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کا امکان ہے، جس کی بڑی وجوہات میں درآمدات میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور سیلاب کے بعد ترسیلاتِ زر میں معمول پر آنے کا رجحان شامل ہے۔

ورلڈ بینک نے زور دیا ہے کہ پاکستان کے لیے محصولات میں اضافہ، اخراجات کی مؤثر نگرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور موسمیاتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور عدم استحکام سے متاثرہ ممالک کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے رپورٹ میں پاکستان کے ورلڈ بینک گیا ہے کہ کے مطابق سکتے ہیں

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار