پاکستان بھی ’’ غزہ بورڈ آف پیس‘ ‘میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد /استنبول /ڈیووس /ابوظبی /مناما /غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک /اے پی پی) پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔شمولیت کی دعوت امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو دی جس کو انہوں نے قبول کرلیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے قیام سے مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات ممکن ہوں گے۔آیت اللہ خامنہ ای کی حفاظت کے لیے حوالے سخت بیان کا جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید اور غیر معمولی دھمکی سے دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے نیوز نیشن کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے مجھے مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں جس پر میں نے سیکورٹی فورسز کو سخت ہدایات دے رکھی ہیں۔ ٹرمپ کے بقول واضح احکامات دے دیے ہیں کہ اگر میرے ساتھ کچھ بھی ہوا تو پورے ایران کو اڑا دیا جائے، کرہ ارض سے ایران کا نقشہ بھی مٹا دیا جائے گا‘ اگر یہ دھمکی کسی عام شہری کو بھی دی جاتی تو میں اس پر بھی بھرپور جواب دیتا لیکن یہ تو کھلم کھلا امریکی صدر کو دی جا رہی ہیں۔امریکی صدر نے کہا ہے کہ وینزویلا میں بڑی کارروائی کے بعد اب ہر بڑی آئل کمپنی ہمارے ساتھ آ رہی ہے اور یہ حیران کن ہے‘جیسا وینزویلا نے امریکا کیساتھ معاہدہ کیا ویسا ہی دیگر ممالک کو بھی کرنا چاہیے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ جب امریکا پھلتا پھولتا ہے تو دنیا بھی ترقی کرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق کچھ ایسا کریں گے کہ ناٹو بھی خوش ہو اور ہم بھی۔ ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ نیٹو کے پاس امریکا نہیں تو نیٹو زیادہ مضبوط نہیں، نیٹو کے لیے جتنا کام میں نے کیا، کسی شخص یا صدر نے نہیں کیا، اگر میں ساتھ نہ دیتا تو آج نیٹو موجود ہی نہ ہوتا اور تاریخ میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا۔ امریکی صدر نے یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپ کے بعض حصے، سچ کہوں تو، اب پہچان میں نہیں آتے۔ وہ اب پہلے جیسے نہیں رہے ہیں‘ میں چاہتا ہوں کہ یورپ ترقی کرے، مجھے ان سے پیار ہے لیکن یہ درست سمت میں نہیں جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو برف کا ایک ٹکڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کی مکمل ملکیت اور قانونی حق امریکا کو دیا جائے تاکہ اس کا دفاع ممکن ہو‘ یہ سمندر کے بیچ ایک بہت بڑا برفانی علاقہ ہے۔ جنگ ہوئی تو زیادہ تر کارروائیاں اسی برفانی خطے پر ہوں گی۔ ذرا تصور کریں میزائل اسی برفانی جزیرے کے اوپر سے گزریں گے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ گرین لینڈ کی مکمل ملکیت اس لیے مانگ رہے ہیں کیونکہ آپ کسی جگہ کا دفاع اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک وہ آپ کی ملکیت میں نہ ہو‘ امریکا کے ساتھ نیٹو میں برتائو بہت غیر منصفانہ رہا ہے تاہم گرین لینڈ کی ملکیت ملنے سے یہ ناٹو اتحاد کی سیکورٹی کو بہت زیادہ مضبوط کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کو اپنے ہتھیار ترک کرنا ہوں گے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اسے تباہ کردیا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دھوپ والی عینک پر طنزیہ تبصرہ نے سوشل میڈیا میں کافی توجہ حاصل کرلی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایمانوئل میکرون کی اوی ایٹر اسٹائل سن گلاسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کل اسے دیکھا، وہ ’’خوبصورت سن گلاسز‘‘ پہنے ہوئے تھے لیکن پھر کیا ہوا؟ان کے الفاظ اور ادائیگی میں ہلکی پھلکی طنز بھی شامل تھی جس پر فورم میں بیٹھے واقفان حال لوگ بھی مسکرااُٹھے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنے اور سماجی اشاریوں کو مسلسل مشترکہ کاوشوں سے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچا جاتی اصلاحات کی گئی ہیں‘ ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے‘ مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.
مانیٹرنگ ڈیسک
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس میں شمولیت وزیراعظم شہباز شریف فلسطینی وزیراعظم ا ئی ٹی برا مدات صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی اقتصادی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر نے نے کہا ہے کہ کی جانب سے گرین لینڈ نے کہا کہ ہوئے کہا دیا جائے کے مطابق رہے ہیں میں کہا کیا گیا کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔