Jasarat News:
2026-06-02@22:39:05 GMT

پاکستان بھی ’’ غزہ بورڈ آف پیس‘ ‘میں شامل

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد /استنبول /ڈیووس /ابوظبی /مناما /غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک /اے پی پی) پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔شمولیت کی دعوت امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو دی جس کو انہوں نے قبول کرلیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے قیام سے مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات ممکن ہوں گے۔آیت اللہ خامنہ ای کی حفاظت کے لیے حوالے سخت بیان کا جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید اور غیر معمولی دھمکی سے دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے نیوز نیشن کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے مجھے مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں جس پر میں نے سیکورٹی فورسز کو سخت ہدایات دے رکھی ہیں۔ ٹرمپ کے بقول واضح احکامات دے دیے ہیں کہ اگر میرے ساتھ کچھ بھی ہوا تو پورے ایران کو اڑا دیا جائے، کرہ ارض سے ایران کا نقشہ بھی مٹا دیا جائے گا‘ اگر یہ دھمکی کسی عام شہری کو بھی دی جاتی تو میں اس پر بھی بھرپور جواب دیتا لیکن یہ تو کھلم کھلا امریکی صدر کو دی جا رہی ہیں۔امریکی صدر نے کہا ہے کہ وینزویلا میں بڑی کارروائی کے بعد اب ہر بڑی آئل کمپنی ہمارے ساتھ آ رہی ہے اور یہ حیران کن ہے‘جیسا وینزویلا نے امریکا کیساتھ معاہدہ کیا ویسا ہی دیگر ممالک کو بھی کرنا چاہیے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ جب امریکا پھلتا پھولتا ہے تو دنیا بھی ترقی کرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق کچھ ایسا کریں گے کہ ناٹو بھی خوش ہو اور ہم بھی۔ ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ نیٹو کے پاس امریکا نہیں تو نیٹو زیادہ مضبوط نہیں، نیٹو کے لیے جتنا کام میں نے کیا، کسی شخص یا صدر نے نہیں کیا، اگر میں ساتھ نہ دیتا تو آج نیٹو موجود ہی نہ ہوتا اور تاریخ میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا۔ امریکی صدر نے یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپ کے بعض حصے، سچ کہوں تو، اب پہچان میں نہیں آتے۔ وہ اب پہلے جیسے نہیں رہے ہیں‘ میں چاہتا ہوں کہ یورپ ترقی کرے، مجھے ان سے پیار ہے لیکن یہ درست سمت میں نہیں جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو برف کا ایک ٹکڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کی مکمل ملکیت اور قانونی حق امریکا کو دیا جائے تاکہ اس کا دفاع ممکن ہو‘ یہ سمندر کے بیچ ایک بہت بڑا برفانی علاقہ ہے۔ جنگ ہوئی تو زیادہ تر کارروائیاں اسی برفانی خطے پر ہوں گی۔ ذرا تصور کریں میزائل اسی برفانی جزیرے کے اوپر سے گزریں گے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ گرین لینڈ کی مکمل ملکیت اس لیے مانگ رہے ہیں کیونکہ آپ کسی جگہ کا دفاع اس وقت تک نہیں کرسکتے جب تک وہ آپ کی ملکیت میں نہ ہو‘ امریکا کے ساتھ نیٹو میں برتائو بہت غیر منصفانہ رہا ہے تاہم گرین لینڈ کی ملکیت ملنے سے یہ ناٹو اتحاد کی سیکورٹی کو بہت زیادہ مضبوط کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کو اپنے ہتھیار ترک کرنا ہوں گے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اسے تباہ کردیا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دھوپ والی عینک پر طنزیہ تبصرہ نے سوشل میڈیا میں کافی توجہ حاصل کرلی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایمانوئل میکرون کی اوی ایٹر اسٹائل سن گلاسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کل اسے دیکھا، وہ ’’خوبصورت سن گلاسز‘‘ پہنے ہوئے تھے لیکن پھر کیا ہوا؟ان کے الفاظ اور ادائیگی میں ہلکی پھلکی طنز بھی شامل تھی جس پر فورم میں بیٹھے واقفان حال لوگ بھی مسکرااُٹھے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنے اور سماجی اشاریوں کو مسلسل مشترکہ کاوشوں سے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچا جاتی اصلاحات کی گئی ہیں‘ ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے‘ مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.

5 فیصد ہو گئی ہے‘ پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے، جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہو گئی ہے۔چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں،اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں،کانکنی اور معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے امریکی اور چینی کمپنیوں سے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں،گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کرپٹو، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،ا س ضمن میں ہم بہت سے جدید آلات لائے ہیں جنہوں نے آئی ٹی برآمدات کو آسان بنایاہے اور ہماری آئی ٹی برآمدات با ضابطہ طور پر سالانہ 3ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا اور فلسطینی وزیراعظم محمد مصطفی کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا کی جانب سے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کا اعتراف اور تعریف کی گئی۔ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ پاکستان طویل مدتی اقتصادی لچک کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھے۔ ملاقات میں عالمی اقتصادی نقطہ نظر، ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش چیلنجزپر بھی غور کیا گیا، ملاقات میں اقتصادی استحکام کے تحفظ میں کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہباز شریف سے فلسطینی وزیراعظم محمد مصطفی نے بھی ملاقات کی، فلسطینی وزیراعظم خود چل کر وزیراعظم شہباز شریف کے پاس آئے اور اپنا تعارف کرایا۔ فلسطینی وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی مستقل، اصولی اور غیر متزلزل حمایت پر وزیراعظم شہباز شریف کا دلی شکریہ ادا کیا۔ پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دی گئی دعوت کا خیرمقدم کیا ہے۔وزرائے خارجہ نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے اپنی اپنی حکومتوں کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام ممالک اپنی متعلقہ آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق شمولیتی دستاویزات پر دستخط کریں گے، جن میں مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں اور یہ پہلے ہی بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے کا اعلان کر چکے ہیں۔آذربائیجان بحرین ،اسرائیل، بلاروس نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ علاوہ ازیں جنگ بندی کے باوجود شمالی و جنوبی غزہ میں اسرائیلی توپ خانے کے حملے جاری رہے۔ عرب میڈیا کے مطابق 24 گھنٹے میں صہیونی مظالم سے مزید 5 فلسطینی شہید ہو گئے، خان یونس اور بوریج کیمپ کے علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں 2 فلسطینی شہید، 3 زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے دیر البلاح میں فائرنگ کی، اسرائیلی فوج نے بیت لاہیا میں رہائشی عمارتیں دھماکوں سے اڑا دیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کے روز دن کے وقت قابض اسرائیلی بمباری میں 3 صحافی اس وقت شہید ہوئے جب وسطی غزہ میں امریکی اسپتال کے قریب مصری کمیٹی کے کیمپوں کی عکس بندی کے لیے ان کی گاڑی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ اس منظم سفاکیت کا تسلسل ہے جس کے تحت اسرائیل دانستہ طور پر صحافیوں اور سچ کی آواز کو خاموش کرنے کی مجرمانہ کوشش کر رہا ہے۔ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ تحریک نے اسرائیلی آخری قیدی کی لاش سے متعلق اپنے پاس موجود تمام معلومات فراہم کر دی ہیں اور اس کی تلاش کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کے ساتھ مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں تعاون کیا ہے۔ بدھ کے روز جاری ایک پریس بیان میں حازم قاسم نے واضح کیا کہ اسرائیل نے متعدد مرتبہ زرد لکیر کے پیچھے واقع علاقوں میں میت کی تلاش کی کوششوں کو جان بوجھ کر سبوتاژ کیا۔ امریکی ویب سائٹ “موندوئس’’ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی زرعی برآمدات تباہی کے قریب ہیں کیونکہ بین الاقوامی بائیکاٹ غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم اور نسل کشی تیزی سے دنیا کے سامنے آرہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی کسانوں نے تصدیق کی کہ بین الاقوامی بائیکاٹ نے اسرائیلی برانڈ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ بدھ کے روز دسیوں صہیونی آبادکاروں نے اسرائیلی سیکورٹی فورسز کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ مبارک کے صحنوں پر یلغار کی اور وہاں تلمودی رسومات ادا کیں۔ اطلاعات کے مطابق آبادکاروں کے یہ گروہ باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا، صحنوں میں اشتعال انگیز چکر لگائے اور کھلے عام تلمودی عبادات انجام دیں، جس سے مقدس مقام کی حرمت کو پامال کیا گیا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس میں شمولیت وزیراعظم شہباز شریف فلسطینی وزیراعظم ا ئی ٹی برا مدات صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی اقتصادی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر نے نے کہا ہے کہ کی جانب سے گرین لینڈ نے کہا کہ ہوئے کہا دیا جائے کے مطابق رہے ہیں میں کہا کیا گیا کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی