data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی : سانحہ گل پلازہ سے متعلق متاثرہ دکانداروں نے ایسے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں جو اس المیے کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ کسی کو سنبھلنے یا بچاؤ کا موقع ہی نہ ملا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی، تاہم دکانداروں کے مطابق سانحے کی اصل وجوہات کا تعین جاری تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

گل پلازہ کے دکاندار فاروق لاکھڑا اور عبدالزاق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتے کے روز مارکیٹ معمول کے مطابق کھلی ہوئی تھی۔ شادیوں کے سیزن کے باعث رش خاصا زیادہ تھا اور عام طور پر مارکیٹ رات 10 بجے بند کر دی جاتی ہے۔ ہفتہ کی رات کچھ دروازے کھلے تھے جب کہ بیشتر داخلی راستے بند تھے کہ اسی دوران اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آگ لگی، چند ہی منٹوں میں اس نے شدت اختیار کر لی۔ تاجروں اور خریداروں نے ایک دوسرے کو باہر نکالنے کی کوشش کی، مگر آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ ہر طرف بھگدڑ مچ گئی، لوگ خوف کے عالم میں ادھر ادھر بھاگنے لگے، بہت سے افراد محفوظ مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جب کہ کئی بدقسمت لوگ عمارت کے اندر ہی پھنس گئے۔

متاثرین کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی اور صرف 20 منٹ کے اندر پوری عمارت اس کی لپیٹ میں آ گئی۔ شعلوں اور دھویں نے فرار کے راستے بند کر دیے، جس کے باعث دکاندار عرش سے فرش پر آ گئے اور برسوں کی محنت لمحوں میں راکھ بن گئی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس سانحے نے نہ صرف قیمتی انسانی جانیں لیں بلکہ سیکڑوں خاندانوں کا روزگار بھی چھین لیا۔

دکانداروں نے حکومت کے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش کا عمل تیز کیا جائے اور متاثرہ تاجروں کی مالی معاونت کی جائے۔  انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 1200 دکانیں تھیں اور اس سانحے کے بعد 6 ہزار سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک مارکیٹ نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کا سہارا تھی، جو اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے مطابق

پڑھیں:

گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی

گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔ 

ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔ 

ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ