لاہور دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار، فضائی آلودگی کی سطح ‘انتہائی خطرناک’ حد تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
لاہور ایک بار پھر دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دے دیا گیا ہے، جہاں فضائی آلودگی کی سطح ‘انتہائی خطرناک’ حد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ انکشاف عالمی فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی کیو ایئر کی تازہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
آئی کیو ایئر کے لائیو ٹریکر کے مطابق بدھ کی صبح لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 452 ریکارڈ کیا گیا۔ اسی فہرست میں کراچی نویں نمبر پر رہا، جہاں 179 تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب اور خیبر پختونخوا میں شدید دھند، شہری فضا انتہائی آلودہ
21 جنوری کو بھی لاہور مسلسل دنیا کے سب سے آلودہ شہر کے طور پر فہرست میں سرفہرست رہا۔ اس سے ایک روز قبل، منگل کو آئی کیو ایئر نے پاکستان کے لیے فضائی آلودگی کا الرٹ جاری کیا تھا، جس میں بتایا گیا کہ بڑے شہروں میں فضائی معیار ‘غیر صحت بخش’ سے لے کر ‘انتہائی خطرناک’ سطح تک پہنچ چکا ہے، جو بالخصوص بچوں اور بزرگوں کے لیے شدید صحت کے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
منگل کے روز لاہور میں اے کیو آئی 507 تک جا پہنچا، جو خطرناک حد (301 سے زائد) سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ کراچی اس دن بھی فہرست میں چھٹے نمبر پر رہا اور وہاں اے کیو آئی 178 ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار
آئی کیو ایئر کی جانب سے جاری الرٹ میں شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں، باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کریں اور گھروں کے اندر ایئر پیوریفائر استعمال کریں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران فضائی آلودگی پاکستان کے لیے ایک سنگین عوامی صحت اور ماحولیاتی بحران بن چکی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں، بالخصوص لاہور، کو ہر سال سردیوں کے موسم میں شدید اسموگ کا سامنا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات صنعتی اخراج، گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا اور ہوا کی کم رفتار ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آلودگی پنجاب فضائی آلودگی لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آلودگی فضائی آلودگی لاہور فضائی آلودگی آئی کیو ایئر فہرست میں کے لیے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔