سٹی42: لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں سولر سسٹم پر منتقل ہونے والے ہزاروں کنکشنز کی بلنگ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث صارفین کو سولر ایکسپورٹ یونٹس کے بجائے امپورٹ یونٹس کے بھاری بلز جاری کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق لیسکو نے سولر سسٹم کی بنیاد پر ایکسپورٹ یونٹس کی ریڈنگ چارج نہ کی، جس کے نتیجے میں صارفین کے میٹرز سے پیدا ہونے والی برقی توانائی (ایکسپورٹ) کو ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے صارفین کو امپورٹ یونٹس کے بلز بھجوا دیے گئے، جس سے انہیں غیر حقیقی اور بھاری بلز کی ادائیگی کا سامنا کرنا پڑا۔

بسنت پر لاہور میں شہریوں کیلئے فری ٹرانسپورٹ چلائی جائے گی

سولر سسٹم کے باوجود صارفین کے لیے امپورٹ یونٹس پر بلنگ جاری رہنے کی وجہ سے انہیں کسی قسم کی ریلیف نہ مل سکا۔ بعض صارفین کے میٹرز نصب بھی ہو گئے، لیکن بلنگ نہ ہونے کے باعث انہیں فائدہ نہیں پہنچا۔

ذرائع کے مطابق لیسکو کے مختلف دفاتر میں صارفین کے کنکشنز پر ایکسپورٹ موڈ کو بند (آف) کر دیا گیا، جس سے ایکسپورٹ شدہ یونٹس کو دانستہ طور پر ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں کمپنی نے لائن لاسز کو چھپانے اور اپنے نقصان کو کم دکھانے کے لیے ایکسپورٹ یونٹس کو روکنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

اپنی چھت، اپنا گھر سکیم کے دائرہ کار میں بڑی توسیع کی تیاری


 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 امپورٹ یونٹس صارفین کے یونٹس کے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی