اسلام آباد:

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی، تاہم اسی اتفاقِ رائے کے ذریعے اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں  بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ آئین کا پورا ڈھانچہ اصلاح کی اجازت دیتا ہے اور اس معاملے پر ان کے مؤقف پر سنجیدہ بات ہونی چاہیے۔

گل پلازہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس بات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور یہ تعمیرات کب ہوئیں؟۔ واقعے میں ذمہ داران کا احتساب ناگزیر ہے۔

پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان ماضی میں ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں، اسی لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملاقاتوں کا باقاعدہ طریقہ کار طے کر دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد اب اس معاملے میں ابہام نہیں رہنا چاہیے۔

ضلعی حکومتوں کے حوالے سے رانا ثنااللہ نے کہا کہ مقامی سطح پر مسائل کے حل کے لیے ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے کہا کہ اسمبلی میں ہر رکن کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے اور خواجہ آصف نے بھی ذاتی رائے ہی دی تھی، جو کہ پارٹی پالیسی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی رائے کو ذاتی ہی رہنا چاہیے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن