اٹھارویں ترمیم پر دوبارہ اتفاقِ رائے سے بہتری ممکن ہے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی تاہم اگر دوبارہ اتفاقِ رائے پیدا ہو تو اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے، کیونکہ بہتری کا راستہ پورے آئین میں کھلا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم پر بات ہونی چاہیے اور اس حوالے سے مکالمہ کسی بھی طور غلط نہیں۔
رانا ثنااللہ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر بھی بات کی اور کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گل پلازہ کی منزلوں کی منظوری کس نے دی، یہ عمارت کب بنی اور اس میں قوانین پر کس حد تک عمل ہوا، ان تمام معاملات کا پورا احتساب ہونا چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں، اسی لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملاقاتوں کا باقاعدہ طریقہ کار طے کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے بعد اب اس معاملے میں مزید ابہام نہیں رہنا چاہیے۔
رانا ثنااللہ نے زور دیا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے اور جب تک مقامی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کیے جائیں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط ضلعی حکومتیں ہی عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کر سکتی ہیں۔
خواجہ آصف کے بیان سے متعلق سوال پر مشیر وزیراعظم نے کہا کہ اسمبلی میں خواجہ آصف نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا تھا اور پارلیمنٹ میں ہر رکن کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں، اس لیے ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔