نوکری کرنے والی ماؤں کے لیے ریموٹ ورک، کیا اب یہ لازمی بننے جارہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
متحدہ عرب امارات میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں زیرِ غور ہیں جن کے تحت کام کرنے والی ماؤں اور دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے ریموٹ ورک کو ترجیح دی جائے گی۔
وفاقی قومی کونسل (FNC) نے کام کرنے والی ماؤں اور دیگر دیکھ بھال کرنے والے افراد کے لیے ریموٹ اور لچکدار کام کے نفاذ پر زور دیا ہے۔ کونسل کے اراکین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خاندانی تحفظ، سماجی استحکام اور کام اور زندگی کے توازن کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے ریموٹ ورک پالیسی سخت کردی، ملازمین کے لیے نئی شرائط عائد
تجاویز میں خصوصی طور پر 10 سال سے کم عمر بچوں والی مائیں، بزرگ والدین کی دیکھ بھال کرنے والے افراد، معذور افراد اور دیگر انسانی ہنگامی حالات کے حامل گروپ شامل ہیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ لچکدار کام کے انتظامات اختیاری نہیں بلکہ ملازمت کے فریم ورک کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں تاکہ ملازمین اقتصادی طور پر سرگرم رہیں۔
نؤكد على أهمية وجود الأم بجانب أطفالها في المراحل الأولى من حياتهم، خاصة الأطفال من أصحاب الهمم، والأطفال دون سن العاشرة، وكذلك المرأة التي تتولى رعاية والديها في بيتها، ونؤكد هنا على مطالبات وتوصيات المجلس السابقة وفي مناقشة اليوم بأن تمنح أولوية العمل المرن والعمل عن بعد لهذه… pic.
— المجلس الوطني الاتحادي (@fnc_uae) January 21, 2026
کونسل کی دوسری نائب اسپیکر اور کمیٹی برائے سماجی امور، محنت، آبادی اور انسانی وسائل کی چیئر پرسن مریم ماجد بن ثانیہ نے کہا کہ ہم بچوں، خاص طور پر خصوصی ضروریات والے بچوں اور 10 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ ماؤں کی موجودگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور ان خواتین کی بھی جو اپنے والدین کی دیکھ بھال اپنے گھروں میں کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ورک فرام ہوم متعارف، دفاتر میں کتنے فیصد ملازمین کی اجازت؟
کونسل کے مطابق ریموٹ ورک خواتین کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور خاندانی زندگی کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد دیتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ قومی ترقی میں اپنا حصہ کم کریں۔
مزید برآں، FNC نے سفارش کی ہے کہ سرکاری شعبے میں زچگی کی رخصت کم از کم 98 مکمل ادائیگی والے دنوں تک بڑھائی جائے، تاکہ عالمی بہترین طریقوں کے مطابق کام کرنے والی خواتین کی حمایت کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ریمورٹ ورک متحدہ عرب امارات ورک فرام ہوم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات ورک فرام ہوم
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔