جاپان کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا کوئی حق حاصل نہیں ، چینی نمائندہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
جاپان کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا کوئی حق حاصل نہیں ، چینی نمائندہ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
جا پان دوسری جنگِ عظیم کے نتائج کو چیلنج کرتا ہے، سون لے
اقوام متحدہ (سب نیوز) اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے قائم مقام چارج ڈی افیئرزسون لے نے سلامتی کونسل میں اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات پر جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ جاپان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا مطالبہ کرنے کا کوئی جواز حاصل نہیں۔
جمعرات کے روز
سون لے نے کہا کہ جاپان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی تاریخی جنگی جرائم پر آج تک سچے دل سے ندامت کا مظاہرہ نہیں کر سکا، بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے، دوسری جنگِ عظیم کے نتائج کو چیلنج کرتا ہے اور جنگ کے بعد قائم عالمی نظام کو کھلم کھلا پامال کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں جاپان نہ تو بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھانے کا اہل ہے اور نہ ہی عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چینی نمائندے نے زور دے کر کہا کہ تاریخ اور موجودہ رجحانات کی روشنی میں جاپان کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اقدامات سے غربت میں کمی، شفافیت اور روزگار میں اضافہ جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے، صدر ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ ٹرمپ کا یو ٹرن: یورپ پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی واپس لے لی امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن، یورپی ممالک اصلاحات پر توجہ دیں: ٹرمپ طالبان کی شاہ خرچیاں، بجٹ کا 88 فیصد غیرترقیاتی کاموں پراڑا دیا اگر ایرانی حکومت نے مجھے قتل کیا تو انکا ملک مکمل تباہ کردیا جائیگا: ٹرمپ سپریم لیڈر پر حملہ پوری اسلامی دنیا کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا، ایرانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا جاپان کو
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔