سرکاری ملازمین کی بحالی و مستقلی کے لیے سفارشات پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ برقرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سرکاری ملازمین کی بحالی و مستقلی کے لیے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کی سفارشات پراسلام آباد ہائی کورٹ نے عملدرآمد روکنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے اپیلوں کو میرٹ کے خلاف قرار دے کر مسترد کیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خصوصی کمیٹی کی کاروائی ایڈوائزری کردار اور رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی حد تک محدود تھی۔ اس حد تک کمیٹی کی کاروائی کو آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کے مطابق قرار دیا جاتا ہے۔
مزید کہا گیا کہ خصوصی کمیٹی کی جانب سے اداروں کے سربراہان کو ملازمین کی بحالی اور مستقلی کی ہدایات قانون کے مطابق نہیں، ملازمین کی سنیارٹی اور تنخواہوں کے تعین کی ہدایات بھی دائرہ اختیار کے بغیر اور قانون کے مطابق نہیں۔
مزید برآں ایسے اقدامات کو محض بے ضابطگی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ آئینی قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی ہے۔ خصوصی کمیٹی کے یہ اقدامات انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ، ڈیلی ویجر اور پروجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ملازمین کی بحالی و مستقلی کے لیے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کے چیئرمین قادر خان مندوخیل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملازمین کی بحالی قومی اسمبلی خصوصی کمیٹی
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔