اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کی سفارشات پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیدیا۔  

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کےخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردیں، جسٹس ارباب محمد طاہر ، جسٹس انعام امین منہاس نے اپیلوں کو میرٹ کے خلاف قرار دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کمیٹی کی کارروائی ایڈوائزری کردار اور رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی حد تک محدود تھی، اس حد تک کمیٹی کی کارروائی کو آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کے مطابق قرار دیا جاتا ہے تاہم خصوصی کمیٹی کی اداروں کے سربراہان کو ملازمین کی بحالی، مستقلی کی ہدایات قانون کے مطابق نہیں۔

بھارت میں ہندو لڑکی اور مسلمان نوجوان  کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا 

فیصلے کے مطابق ملازمین کی سنیارٹی اور تنخواہوں کے تعین کی ہدایات بھی دائرہ اختیاراور قانون کے مطابق نہیں، ایسے اقدامات کو محض بے ضابطگی قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ اقدام آئینی  قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی کمیٹی کے اقدامات انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہیں، خصوصی کمیٹی کی جانب سے جاری ہدایات سول سرونٹس ایکٹ اور رولز کی خلاف ورزی ہیں، سنگل بینچ کا خصوصی کمیٹی کی ہدایات کو غیر قانونی قرار دینا بالکل درست تھا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے بذات خود ملازمین کی سروس کی مستقلی ریگولرائز یا بحالی کا اختیار رکھتے تھے، خصوصی کمیٹی کی ہدایات کی بنیاد پر استعمال کیے گئے اختیارات کو قانونی تحفظ حاصل نہیں، عدالت ان اداروں کو ایسے کیسز پر دوبارہ غورکے لیے کوئی ہدایات جاری نہیں کرے گی۔ ایسا کرنا مکمل طور پر ان اداروں کے اپنے دائرہ اختیار اور صوابدید میں آتا ہے، اگر وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔

بابراعظم کا بگ بیش لیگ میں سفر ختم، سابق کپتان نے بیان بھی جاری کردیا

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ، ڈیلی ویجر اور پروجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ملازمین کی بحالی و مستقلی کے لیے  خصوصی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کے چیئرمین قادر مندوخیل تھے۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: خصوصی کمیٹی کی ملازمین کی کی ہدایات کے مطابق

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف