اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر عائد پابندی کو آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو بعض ہدایات جاری کی تھیں، تاہم وفاقی حکومت نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

وفاق کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی پابندی برقرار رکھی جائے، تاہم لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے حکومت کا اختیار ہیں اور عدالتوں کو ایسے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ ہائیکورٹ پالیسی نوعیت کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتی۔ درآمدات اور تجارتی پابندیاں قومی مفاد، خارجہ تعلقات اور معاشی حکمت عملی سے جڑی ہوتی ہیں، جن کا تعین منتخب حکومت کا آئینی حق ہے۔

اسی دوران آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی بھی سماعت ہوئی، جہاں جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ بڑی گاڑیاں فراہم کرنے سے ٹیکس وصولی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔

فرٹیلائزر کمپنیوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے موجودہ سال کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال پر بھی ٹیکس عائد کر دیا ہے، جو اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ سماعت میں مزید قانونی نکات پیش کریں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت دوبارہ کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ درآمدی پابندی کے کیس میں محفوظ فیصلہ آئندہ دنوں میں سنائے جانے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کیس کی

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی