بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کا کیس: عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر عائد پابندی کو آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو بعض ہدایات جاری کی تھیں، تاہم وفاقی حکومت نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔
وفاق کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی پابندی برقرار رکھی جائے، تاہم لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے حکومت کا اختیار ہیں اور عدالتوں کو ایسے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ ہائیکورٹ پالیسی نوعیت کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتی۔ درآمدات اور تجارتی پابندیاں قومی مفاد، خارجہ تعلقات اور معاشی حکمت عملی سے جڑی ہوتی ہیں، جن کا تعین منتخب حکومت کا آئینی حق ہے۔
اسی دوران آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی بھی سماعت ہوئی، جہاں جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ بڑی گاڑیاں فراہم کرنے سے ٹیکس وصولی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔
فرٹیلائزر کمپنیوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے موجودہ سال کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال پر بھی ٹیکس عائد کر دیا ہے، جو اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ سماعت میں مزید قانونی نکات پیش کریں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت دوبارہ کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ درآمدی پابندی کے کیس میں محفوظ فیصلہ آئندہ دنوں میں سنائے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کیس کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔