وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد میں سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں واقع 2 گھروں کے درمیان سرکاری اراضی کے استعمال کے تنازع پر فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل نمٹاتے ہوئے گھروں کو ملحقہ سرکاری اراضی کو بطور راستہ استعمال کی مشروط اجازت دے دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھروں کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کو درست قرار دیا تھا، کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس آخری مراحل میں، وفاقی آئینی عدالت کا کیس نمٹانے کا عندیہ
سی ڈی اے کے وکیل کے مطابق، درخواست گزار نے اراضی استعمال کرنے اور ضرورت پڑنے پر اسے واپس کرنے کا بیان حلفی دے رکھا ہے۔
عدالت نے بھی مشروط اجازت کی منظوری دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صرف متعلقہ کیس کی بات زیر غور آئے۔
سماعت کے دوران وکیل فیصل چوہدری نے حکومت کے آپریشنز اور کچی آبادیوں کی ہٹائی جانے والی اراضی کا ذکر کیا۔
تاہم جسٹس عامر فاروق نے انہیں ہدایت کی کہ وہ صرف اپنے کیس کی تفصیلات پر بات کریں۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کی نئی عمارت کا افتتاح کردیا
وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کسی کو ملحقہ سرکاری اراضی کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ان کا مؤقف تھا کہ سی ڈی اے کے پاس بیان حلفی پر اجازت دینے کی قانونی اتھارٹی نہیں ہے۔
عدالت نے اس معاملے میں مشروط اجازت دیتے ہوئے ممکنہ قانونی اثرات پر غور کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد سرکاری اراضی سی ڈی اے فیصل چوہدری مشروط اجازت ہائیکورٹ وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد سرکاری اراضی سی ڈی اے فیصل چوہدری ہائیکورٹ وفاقی ا ئینی عدالت سرکاری اراضی کے استعمال وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد عدالت نے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز