ایران میں مظاہروں کے دوران کتنے ہزار افراد ہلاک ہوئے؟ ایران نے حیران کن اعدادوشمار جاری کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ایران کی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 3,117 افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ احتجاج دسمبر کے اواخر میں شروع ہوئے تھے جن کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں سخت اور مہلک کارروائی کے ذریعے کچلا گیا۔
ایرانی فاؤنڈیشن برائے شہدا و جانبازان کے بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے 2,427 افراد کو اسلامی اصطلاح میں “شہید” قرار دیا گیا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق یہ احتجاج دراصل پرتشدد “فسادات” تھے جن کے پیچھے غیر ملکی عناصر خصوصاً امریکا کا ہاتھ تھا۔
مزید پڑھیںجوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے، صدر ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ
دوسری جانب حقوقِ انسانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہزاروں مظاہرین، جو سیاسی و سماجی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے، سکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے مارے گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق احتجاج کے دوران سینکڑوں سرکاری و نجی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ صرف تہران میں 314 سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 155 عمارتیں نذرِ آتش ہوئیں۔ اس کے علاوہ درجنوں بینک، دکانیں، مساجد اور بسیں بھی جلا دی گئیں۔
تہران میونسپل حکام نے غیر ملکی صحافیوں کو شہر کے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کروایا جہاں جلی ہوئی بسیں، موٹر سائیکلیں اور مساجد کے تباہ شدہ حصے دکھائے گئے۔ بس آپریشنز کے سربراہ کے مطابق 8 جنوری کو احتجاج کے عروج پر 22 بسیں مکمل طور پر جل گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز