پیپر ملبری کی کٹائی یا ماحول کا تحفظ؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بحث گرم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے واضح کیا کہ پیپر ملبری کے علاوہ کوئی بھی درخت نہیں کاٹا گیا، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شکایت یا اعتراض ہے تو کسی بھی ادارے سے تحقیقات کرائی جا سکتی ہیں۔
’ہم ہر وقت حاضر ہیں، ایک درخت کاٹنے کی صورت میں اس کی جگہ 3 سے زائد درخت لگائے گئے ہیں۔‘
چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
انہوں نے کہا کہ امریکا اور آسٹریلیا میں بھی انہی وجوہات کی بنا پر پیپرملبری کے درخت ہٹائے گئے۔
سینیٹرشیری رحمان کی زیرصدارت اجلاس میں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اوراس سے جڑے ماحولیاتی نقصان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
شکرپڑیاں، پارک روڈ، ایف 9 پارک اور ایچ 8 ایکسپریس وے پر درختوں کی کٹائی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اسموگ، گاڑیوں کے اخراج اور ماحولیاتی منصوبوں پر متعلقہ اداروں کی بریفنگ بھی دی گئی۔
https://Twiiter.
چیئرپرسن کمیٹی شیری رحمان نے کہا کہ درختوں کی کٹائی سے قبل عوام اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے کیونکہ اسلام آباد کی خوبصورتی اور ماحول کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ درختوں کے ساتھ پانی کے تحفظ پر بھی پالیسی بنائی جائے اور اگرڈیم بن سکتا ہے تو موجودہ پانی کو صاف کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
شیری رحمان نے پیپر ملبری کی کٹائی سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پہلے عوام کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تھا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے بتایا کہ اسلام آباد گزشتہ 2 دہائیوں سے شدید پولن بحران کا شکار ہے۔
2022 میں پولن کاؤنٹ 82 ہزار فی کیوبک میٹر تک پہنچ گیا تھا، جس کا 94 فیصد سبب پیپر ملبری کے درخت ہیں۔
مارچ اور اپریل میں پولن سیزن عروج پر ہوتا ہے۔ پیپر ملبری کی کٹائی سے سانس کی الرجی میں 40 فیصد سے زائد کمی آئے گی۔
مزید پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ کیا ہے؟
وزیر مملکت برائے صحت نے اجلاس میں پولن مینجمنٹ و ایکولوجیکل ریسٹوریشن انیشی ایٹو 2024 پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ وزارت صحت اور سی ڈی اے کی سربراہی میں شروع کیا گیا تھا، پیپر ملبری کے خاتمے کے لیے 3 نکاتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے؛ درختوں کی کٹائی، جڑوں کا مکمل خاتمہ، اور مٹی کی دوبارہ بھرائی۔
مختار بھرتھ کے مطابق اب تک 29,115 پیپر ملبری کے درخت ہٹائے جاچکے ہیں، جن میں ایف 9 پارک سے 12,800 اور شکرپڑیاں سے 8,700 درخت شامل ہیں، اسی طرح مختلف سیکٹرز اور کوریڈورز میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔
کمیٹی اجلاس میں نیلوفر قاضی نے درختوں کی کٹائی کو الرجی کنٹرول کے بجائے کرکٹ گراؤنڈ کے منصوبوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر مقصد الرجی کنٹرول تھا تو ماہر ماحولیات سے مشاورت ضروری تھی۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر مصدق ملک کا جنگلات کٹائی کے مقامات کا دورہ، ’درخت کاٹنے کے جرمانے میں اضافہ ہو گا‘
ماہر ماحولیات سید رضوان نے کہا کہ پیپر ملبری کے درخت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جبکہ مادہ درخت نہیں، ان کے مطابق تمام درخت کاٹنے کے بجائے صرف زیادہ خطرناک درختوں کو ہٹایا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جڑیں اکھاڑنے سے مٹی کے کٹاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور درخت مرحلہ وار ختم کیے جانے چاہییں تھے۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں سے اسلام آباد کے گرین کور کو نقصان پہنچنے کا تاثر درست نہیں۔
’سی ڈی اے نے ڈیزائنز میں تبدیلیاں کر کے درخت بچانے اور پیوندکاری پر توجہ دی ہے، جبکہ کئی جگہوں پر درختوں کا کور دگنا بھی کیا گیا۔‘
مزید پڑھیں: درختوں کی کٹائی نہیں، منظم شجرکاری ہو رہی ہے، طلال چوہدری کا قومی اسمبلی میں بیان
انہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ہر ایک درخت کے بدلے 3 درخت لگانے کا عزم ہے، ایف 9 پارک میں نئے کرکٹ گراؤنڈ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے سے گراؤنڈ موجود ہے اور صرف بیٹھنے کی جگہ بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 11 جولائی 2025 سے ڈی چوک میں ایمیشن ٹیسٹنگ شروع کی گئی اور 29 نومبر 2025 سے مزید تین ٹیسٹنگ پوائنٹس بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔
’اب تک ڈی چوک پر 4,447 گاڑیاں اور مجموعی طور پر 32,066 گاڑیاں چاروں پوائنٹس پر ٹیسٹ کی جاچکی ہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد الرجی کنٹرول ایف 9 پارک پولن پولن مینجمنٹ سول سوسائٹی سید رضوان سینیٹ شیری رحمان صحت قائمہ کمیٹی کرکٹ گراؤنڈ گرین کور ماہر ماحولیات مختار بھرتھ موسمیاتی تبدیلی نیلوفر قاضی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد الرجی کنٹرول ایف 9 پارک پولن پولن مینجمنٹ سول سوسائٹی سید رضوان سینیٹ قائمہ کمیٹی کرکٹ گراؤنڈ گرین کور ماہر ماحولیات مختار بھرتھ موسمیاتی تبدیلی نیلوفر قاضی پیپر ملبری کے درخت درختوں کی کٹائی قائمہ کمیٹی اسلام آباد مزید پڑھیں ایف 9 پارک اجلاس میں پر درختوں نے کہا کہ بتایا کہ انہوں نے میں پولن سی ڈی اے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔