data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: محمود آباد کے علاقے میں 100 سے زائد بچوں سے مبینہ بدفعلی کے سنگین مقدمے میں تفتیش کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں تفتیشی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مرکزی ملزم عمران کا ڈی این اے کم از کم 8 متاثرہ بچوں کے نمونوں سے میچ کر گیا ہے، جس کے بعد کیس میں شواہد مزید مضبوط ہو گئے ہیں اور قانونی کارروائی میں تیزی آ گئی ہے۔

نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ڈی این اے نتائج موصول ہونے کے بعد تفتیشی اداروں نے کیس کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جب کہ مزید متاثرہ بچوں کی نشاندہی اور ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نتائج عدالت میں مضبوط ثبوت کے طور پر پیش کیے جائیں گے، جس سے ملزم کو قرار واقعی سزا دلوانے میں مدد ملے گی۔

تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم عمران کا پنجاب سے بھی مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق 2018 سے 2023 کے دوران ملتان اور گردونواح میں اس کے خلاف 8 مختلف مقدمات درج رہے، جن میں بچوں سے بدفعلی، اغوا اور اقدام قتل جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔ اس انکشاف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں کہ اتنے سنگین مقدمات کے باوجود ملزم کیسے آزاد گھومتا رہا۔

ذرائع کے مطابق ملزم کی اہلیہ 2024 میں بچوں سمیت اسے چھوڑ کر فیصل آباد منتقل ہو گئی تھی، تاہم اس کے باوجود ملزم مختلف اوقات میں پنجاب آتا جاتا رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اس وقت 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا