ملک بھر میں بارشوں، اسلام آباد سمیت بالائی علاقوں میں ژالہ باری اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس) محکمہ موسمیات کے مطابق مُلک میں 22 اور 23 جنوری کے دوران تیز بارشوں، ژالہ باری اور پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کا امکان ہے۔

محکمے کے مطابق بلوچستان، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، جبکہ پہاڑوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور مُلک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے سڑکیں بند ہو سکتی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں اکثر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں شام یا رات کے وقت شدید برفباری ہو سکتی ہے۔

جمعرات کے روز اسلام آباد اور گردونواح میں بھی مطلع ابر آلود رہے گا جب کہ دوپہر کے بعد تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ اسلام آباد میں شام یا رات میں چند مقامات پرتیز بارش اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔

بلوچستان کے کئی علاقوں میں بارش اور برفباری بدھ کی رات سے ہی شروع ہو گئی تھی۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

کوئٹہ، وسطی اور شمالی بلوچستان میں بارش اور برفباری کا سلسلہ گزشتہ شب شروع ہوا۔

برفباری کی وجہ سے کوئٹہ، زیارت، کان مہترزئی، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، توبہ کاکڑی اتوبہ اچکزئی اور نوشکی میں کیشنگی سمیت مختلف علاقوں میں زمین نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ بارش اور برفباری سے متاثرہ علاقوں میں ریسکو ٹیمیں موجود ہیں اور برفباری کے باعث شاہراہوں پر جمی برف ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور برفباری سے متاثرہ علاقوں میں پہلے سے ہی مشنری اور امدادی سامان بھجوا دیا گیا تھا۔ مسلم باغ کے علاقے میں قومی شاہرہ پر پھسلن کے باعث ٹریفک کی بحالی کے لئے کاروائیاں جاری ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے برفباری کے دوران فوری امدادی کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی مُشکل صورتحال سے نمٹنے کے لئے پی ڈی ایم اے مکمل طور پر تیار ہے۔

بارش اور برفباری کی وجہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں باالخصوص مستونگ، قلات، سوراب، کوئٹہ اور زیارت سمیت شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے سردی کی شدت میں اضافے کی باعث لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں۔

تاہم کوئٹہ سمیت بلوچستان کے جن علاقوں گیس کی سہولت ہے وہاں گیس کی پریشر میں کمی کے باعث لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔

سردی میں گیس پریشر میں کمی اور اس کی بندش کا وزیر اعلی بلوچستان نے نوٹس لیکر گیس کمپنیوں کا ایک اجلاس طلب کیا تھا۔

وزیر اعلی نے وفاقی حکومت سے بلوچستان کے سرد علاقوں کے لیے گیس کی ایلوکیشن کو بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسحاق ڈار کی تھائی ہم منصب سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق اسحاق ڈار کی تھائی ہم منصب سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد میں پرائیویٹ گھر کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت دے دی سینیٹ اجلاس کا وقت تبدیل،مراسلہ سب نیوز پر وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اقدامات سے غربت میں کمی، شفافیت اور روزگار میں اضافہ اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی: موسی گینگ کے پانچ ارکان گرفتار صدر مملکت نے سندھ، لاہور اور پشاور ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدت میں توسیع کی منظوری دے دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بالائی علاقوں میں برفباری کا امکان بارش اور برفباری بلوچستان کے پی ڈی ایم اے اسلام آباد ژالہ باری کے مطابق

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل