چین نے امریکا اور تائیوان کے درمیان تجارتی معاہدہ علاقے کی فروخت قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بیجنگ (ویب ڈیسک) چین نے تائیوان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے پرتنقید کرتے ہوئے اسے علاقے کی فروخت کا معاہدہ قراردے دیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) پر عوام کی فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈالنے اور صنعتی ترقی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق چین کی سٹیٹ کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان پینگ چِنگ اِن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ تجارتی مذاکرات امریکا کے شدید دباؤ میں کئے گئے، جہاں امریکا نے ٹیرف کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تائیوان کو امریکا میں اپنی سرمایہ کاری نمایاں طور پر بڑھانے پر مجبور کیا، جس سے تائیوان کی مسابقتی صنعتیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اس معاہدے کو ’’اقتصادی غنڈہ گردی کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے‘‘ کے مترادف قرار دیا، معاہدے کے تحت امریکا نے تائیوان سے درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف کی شرح کم کرکے 15 فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کے بدلے میں تائیوان نے 250 ارب ڈالر امریکا میں سرمایہ کاری کرنے، خصوصاً سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں اور 250 ارب ڈالر سے زائد کے کریڈٹ گارنٹیز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اگرچہ ڈی پی پی کے عہدیدار اس معاہدے کو بہترین ڈیل قرار دے رہے ہیں، تاہم پینگ چِنگ اِن نے نشاندہی کی کہ تائیوان مجموعی طور پر 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پابند ہو رہا ہے اور اپنے سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے 40 فیصد حصے کو امریکا منتقل کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔