حکومت نے اسلام آباد کےلیے پاک فوج کے اہلکاروں کی خدمات حاصل کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
حکومت نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے لئے پاک فوج کے تربیت یافتہ حاضر سروس اہلکاروں کی خدمات حاصل کر لیں۔
2 میجرز اور سولہ ایس ایس جی کی ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر خدمات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو باضابطہ ریکوزیشن بھجوائی ہے۔
دفتر انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد کی جانب سے اس ضمن میں مراسلہ جاری کر دیا گیا، آئی سی ٹی پولیس اس وقت امن و امان کی بحالی، جرائم کی روک تھام، جرائم کے خلاف کارروائی اور سیکیورٹی و روٹس ڈیوٹی سمیت کثیر النوع ذمہ داریاں سر انجام دے رہی ہے جس کے لیے اضافی افرادی قوت ناگزیر ہو چکی ہے۔
مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے دو میجرز اور سولہ ایس ایس جی تربیت یافتہ حاضر سروس اہلکاروں کو موجودہ خالی آسامیوں پر ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا جائے۔
ان سولہ اہلکاروں میں سے دس کو نیشنل پولیس اکیڈمی (این پی اے) اسلام آباد مین لینڈ تعینات کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔