وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد میں پرائیویٹ گھر کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد میں پرائیویٹ گھر کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں پرائیویٹ گھر کے ساتھ ملحقہ سرکاری اراضی کے راستے کے استعمال کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل نمٹا دی۔
عدالت نے سی ڈی اے کو درخواست گزار کو اراضی استعمال کرنے کی مشروط اجازت دینے کی منظوری دی۔
سی ڈی اے کے وکیل کے مطابق، درخواست گزار نے اراضی کے استعمال اور بوقت ضرورت اسے واپس کرنے کے لیے بیان حلفی دے رکھا ہے۔ عدالت کے جج، جسٹس عامر فاروق نے وکیل سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ کیا مسئلہ کے آپسی حل کا کوئی امکان ہے۔
سی ڈی اے کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق کسی کو ملحقہ سرکاری اراضی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جبکہ وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیے کہ سی ڈی اے پورے شہر میں کچی آبادیوں کو گرا رہا ہے اور اگر پوش ایریاز میں اجازت دی جاتی ہے تو یہ غلط تاثر جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غریبوں کے گھر گرا کر امیروں کو بیان حلفی پر اجازت دی جا رہی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے وکیل فیصل چوہدری کو ہدایت کی کہ وہ کچھ آبادیوں کے خلاف سی ڈی اے آپریشنز پر بات نہ کریں اور صرف اپنے کیس کی بات کریں۔
سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے پرائیویٹ گھر کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کو درست قرار دیا تھا، جس کے خلاف سی ڈی اے نے آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسینیٹ اجلاس کا وقت تبدیل،مراسلہ سب نیوز پر سینیٹ اجلاس کا وقت تبدیل،مراسلہ سب نیوز پر وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اقدامات سے غربت میں کمی، شفافیت اور روزگار میں اضافہ اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی: موسی گینگ کے پانچ ارکان گرفتار صدر مملکت نے سندھ، لاہور اور پشاور ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدت میں توسیع کی منظوری دے دی روانڈا کی ہائی کمشنر کی شیری رحمان سے ملاقات، خواتین قیادت پر زور آسٹریلیا اور فلپائن کا سفارتی تعاون مضبوط بنانے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اراضی کے استعمال سرکاری اراضی کے آئینی عدالت اسلام آباد عدالت نے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔