وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں ہونے والے اجلاس میں غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کر دیے ہیں۔
دوسرے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ دستخطی تقریب میں وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ مسودے پر دستخط کیے اور امریکی صدر سے مصافحہ کیا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور حماس نے غیر مسلح ہونے کا وعدہ کیا ہے، تاہم اگر اس نے ہتھیار نہ چھوڑے تو ’ان کا خاتمہ کر دیا جائے گا‘۔
’یہ ایک تاریخی اور پُرجوش دن ہے‘صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اس دن کو ’’انتہائی پُرجوش اور طویل عرصے سے تیاری میں رہنے والا دن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک ان کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔
8 جنگیں ختم کرنے کا دعویٰڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ اب تک 8 جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور ایک اور بڑا معاہدہ بہت جلد ہونے جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یوکرین جنگ کو سب سے مشکل مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تنازع ہے جسے وہ آسان سمجھ رہے تھے مگر یہ سب سے پیچیدہ ثابت ہوا۔
غزہ اور مشرقِ وسطیٰ پر سخت مؤقفامریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل میں 59 ممالک شامل ہیں اور کئی ممالک نے ’بورڈ آف پیس‘ کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا:
“اگر حماس نے اپنے وعدے پورے نہ کیے اور ہتھیار نہ ڈالے تو یہ ان کا انجام ہوگا۔ انہیں اسلحہ ترک کرنا ہوگا۔”
ٹرمپ نے ایران کے جوہری مراکز پر گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والی کارروائی ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور جلد مذاکرات ہوں گے، جبکہ شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو لاحق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ’’دنیا میں کئی اچھی پیش رفت ہو رہی ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل دنیا آگ میں جل رہی تھی، مگر اب صورتحال پرسکون ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے کروڑوں جانیں بچیں۔
انہوں نے کہا کہ 8 جنگیں ختم کرنے کے بعد کئی عالمی رہنما ان کے دوست بن چکے ہیں۔
امریکا کی معیشت پر دعوےامریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں امریکا معاشی طور پر مضبوط ہوا، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں معیشت تباہ حال اور غیر قانونی امیگریشن عروج پر تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال میں ’معجزہ‘ ہوا ہے، ٹیکسوں میں کمی کی جا رہی ہے اور بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔
خطاب کے اختتام پر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں موجود سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ٹونی، آپ کا یہاں ہونا ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس شہباز شریف امریکی صدر ہوئے کہا کیا کہ ہے اور
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔