مغربی ہواؤں کے اثر سے بلوچستان کے بالائی علاقوں میں شدید سردی کی لہر کے ساتھ برفباری اور بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

وادی کوئٹہ سمیت مستونگ، قلات، چمن، کان مہترزئی، مسلم باغ اور دیگر بالائی اضلاع میں گزشتہ شب سے وقفے وقفے سے برفباری ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ نشیبی علاقوں میں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

برفباری کے باعث وادی کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں میں سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے گر چکا ہے۔

پہاڑوں پر برفباری کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد نے کوئٹہ کے قریبی سیاحتی مقامات کا رخ کر لیا ہے جہاں شہری اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ہمراہ موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب شدید برفباری کے باعث کئی اہم قومی شاہراہیں بند ہو گئی ہیں۔ کوئٹہ چمن قومی شاہراہ خوژک ٹاپ کے مقام پر بند ہے جبکہ کوئٹہ کان مہترزئی، کوئٹہ مسلم باغ اور کوئٹہ ژوب قومی شاہراہیں مختلف مقامات سے متاثر ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے فوری ریسکیو اور بحالی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانذیب خان نے کان مہترزئی کا دورہ کیا جہاں ان کے ہمراہ ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ریسکیو نوید احمد شیخ بھی موجود تھے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے برفباری کے بعد جاری امدادی سرگرمیوں اور قومی شاہراہ سے برف ہٹانے کے آپریشن کا جائزہ لیا۔

جہانزیب خان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت کے مطابق برفباری اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں، پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں ہیوی مشینری کے ہمراہ فیلڈ میں موجود ہیں اور قومی شاہراہوں سے برف ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کی جا رہی ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موسمی صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے برفباری سے قبل ہی متاثرہ علاقوں میں مشینری اور ضروری سامان پہنچا دیا گیا تھا جبکہ پی ڈی ایم اے کا عملہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق برفباری کا یہ سلسلہ مزید 24 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے جس کے بعد سردی کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے برفباری کے علاقوں میں

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل