ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھے جاسکیں گے، قومی اسمبلی میں الیکشنز ایکٹ ترمیمی بل منظور، 18 ویں ترمیم پر خواجہ آصف کے بیان پر PP ناراض
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل منظور کر لیا، بل کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے خفیہ رکھے جا سکیں گے ،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا بل کے تحت سیاسی جماعت کو کالعدم کرنا اور فلور کراسنگ کا معاملہ آئینی عدالت میں لے جایا جاسکے گا، چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بل کے تحت آپ الیکشن لاء کے معاملات کو سپریم کورٹ کی بجائےآئینی کورٹ میں لیکرجا رہے ہیں، 18ویں ترمیم پر خواجہ آصف کے بیان پر پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے ایوان میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو گالی دینےکیلئے گل پلازہ آگ کو بہانہ بنایا،جس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خواجہ آصف کا بیان انکی ذاتی رائے ہے، ہر فیصلہ پارلیمنٹ کی رضا مندی سے ہوتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کہا گل پلازا پر کل بھی بلیم گیم ہوا ، گل پلازا میں جانیں گئیں، کوشش کریں آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں، آپ بلدیاتی حکومت کو بااختیار بنائیں ۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جسکے تحت الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی منظوری کے بعد الیکشنز ایکٹ کی سیکشن 9 میں ترمیم کرتے ہوئے لفظ ’سپریم‘ کی جگہ ’فیڈرل آئینی عدالت‘ شامل کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: الیکشنز ایکٹ قومی اسمبلی خواجہ ا صف کے تحت
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز