قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں مختلف سیکشنز میں اصلاحات کی گئی ہیں، جن میں بنیادی طور پر سپریم کورٹ کے بجائے فیڈرل آئینی عدالت کو قانونی دائرہ اختیار میں شامل کیا گیا ہے۔

منظور شدہ ترمیم کے تحت سیکشن 9 میں لفظ ’سپریم‘ کی جگہ ’فیڈرل آئینی عدالت‘ استعمال کیا گیا، جبکہ سیکشن 66 اور 104 میں بھی آئینی عدالت کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ اسی طرح سیکشن 104A میں بھی فیڈرل آئینی عدالت کو شامل کرنے کی شق منظور کی گئی ہے تاکہ الیکشن تنازعات اور قانونی تشریحات کے امور آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئیں۔

الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 138 میں اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اثاثوں کی تفصیلات شائع نہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، کسی رکن کے جان یا سیکورٹی خطرے کی صورت میں اس کے اثاثے عوامی سطح پر شائع نہیں کیے جائیں گے اور اسپیکر یا چیئرمین تحریری وجوہات کے ساتھ رولنگ جاری کر سکیں گے۔ اثاثے زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھے جا سکیں گے، تاہم مکمل اور درست تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازم ہے۔

سیکشن 155، 202، 212 اور 232 میں بھی ترمیم کی گئی ہے تاکہ الیکشن قوانین کے تحت اپیلوں اور قانونی تشریح کا دائرہ فیڈرل آئینی عدالت کے سپرد ہو۔

بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ شفافیت اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا مقصد قانون ہے، تاکہ ارکان اور ان کے اہل خانہ کی ذاتی سلامتی اور پرائیویسی محفوظ رہ سکے۔

اس بل کے مطابق اب ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے اثاثے اسپیکر یا چیئرمین کی منظوری کے بعد ہی شائع کیے جا سکیں گے اور ضرورت کے تحت خفیہ رکھے جا سکیں گے۔ اسپیکر یا چیئرمین کی رولنگ کے بعد الیکشن کمیشن ایک سال تک اثاثوں کو خفیہ رکھنے کا پابند ہوگا۔

اجلاس میں دیگر بلز بھی پیش کیے گئے جن میں سی آر پی سی ترمیمی بل 2026 خواتین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق آئینی ترمیمی بل اور دستور ترمیمی بل 2026 شامل ہیں۔

الیکشن ترمیمی بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد بل قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا۔ بل کی مخالفت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس ترمیم کے تحت الیکشن معاملات سپریم کورٹ کے بجائے آئینی عدالت میں لے جا رہے ہیں جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ متعدد معاملات پہلے بھی آئینی عدالت گئے ہیں اور الیکشن کمیشن کی اپیلیں آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں لائی جا رہی ہیں۔

ترمیم کے بعد اب ارکان پارلیمنٹ کے اثاثے ان کی اجازت کے بغیر میڈیا یا عوامی سطح پر جاری نہیں کیے جائیں گے، اور اسپیکر یا چیئرمین کے فیصلے کے بغیر کسی کو فراہم نہیں کیے جا سکیں گے۔ شازیہ مری کا مؤقف تھا کہ سابقہ طریقہ کار کے باعث ارکان کو سیکورٹی خطرات لاحق ہو جاتے تھے، جسے موجودہ ترمیم کے ذریعے حل کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اسپیکر یا چیئرمین فیڈرل آئینی عدالت آئینی عدالت کے قومی اسمبلی جا سکیں گے ترمیم کے کیا گیا کے تحت گیا ہے کے بعد کیے جا

پڑھیں:

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ کے دوسرے روز بھی پاکستان کا جادو سر چڑھ کر بولا، قومی ٹیم نے بنگلادیش کو کسی بھی مرحلے پر سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور مسلسل تین سیٹ جیت کر 0-3 سے شاندار فتح اپنے نام کر لی۔

پاکستان نے آغاز سے ہی جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے پہلا سیٹ 16-25 سے جیتا، دوسرے سیٹ میں بھی سبز ہلالی پرچم بلند رکھا اور 17-25 سے کامیابی سمیٹی۔

تیسرے سیٹ میں بنگلادیش نے بھرپور مزاحمت کی، مگر پاکستانی کھلاڑیوں نے اعتماد اور مہارت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 22-25 سے فتح حاصل کی اور میچ بغیر کوئی سیٹ گنوائے تین صفر سے اپنے نام کر لیا۔

قومی ٹیم کی یہ مسلسل دوسری فتح کاوا چیمپئن شپ میں پاکستان کے مضبوط عزائم کا واضح اعلان ہے جبکہ شاندار کارکردگی نے ٹائٹل کی دوڑ میں پاکستان کو مزید مضبوط امیدوار بنا دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن