خواجہ آصف کے 18 ویں ترمیم سے متعلق بیان پر پیپلزپارٹی ناراض‘ حکومت سے وضاحت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18 ویں ترمیم سے متعلق بیان پر حکومت سے وضاحت مانگ لی۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی پی رہنما نوید قمر نے کہا کہ کل خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر بات کی اور ساتھ 18 ویں ترمیم لے آئے، (ن) لیگ کے پارلیمانی لیڈر کے بیان کو ہم حکومت کا پالیسی بیان سمجھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ساتھ بہت تجربے کیے گئے، ہر تجربے کے ساتھ ملک کو آدھا کیا، وفاق سے درخواست ہے تجربہ کرنا بند کرے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان کو ذاتی رائے قرار دے دیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہماری ذاتی آرا ہوتی ہیں، انہیں ذاتی رائے کے طور پر لیا جائے، ہر فیصلہ پارلیمنٹ کی رضامندی سے ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز خواجہ آصف نے کہا تھا کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی ہے، سارے اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہوگئے ہیں، کراچی میں ہونے والے واقعات متقاضی ہیں کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے کہا
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں