صدرِ مملکت نے سندھ، لاہور، پشاور ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی تقرریوں اور توسیع کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
— فائل فوٹو
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سندھ، لاہور، پشاور ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی تقرریوں اور توسیع کی منظوری دے دی۔
جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر ایڈیشنل ججز کی کنفرمیشن اور توسیع کی منظوری دی گئی۔
سندھ ہائی کورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج تعینات کرنے کی منظوری جبکہ 2 ایڈیشنل ججز کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کر دی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کی کنفرمیشن کی منظوری دی گئی جبکہ ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کر دی گئی۔
پشاور ہائی کورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنانے کی منظوری اور 4 ایڈیشنل ججز کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج طارق محمود باجوہ کو 6 ماہ کی توسیع دی گئی۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللّٰہ خان، جسٹس ثابت اللّٰہ خان، اور جسٹس اورنگزیب کی مدت میں 6، 6 ماہ کی توسیع کر دی گئی۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبد الفیاض، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس سید مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد کو مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جن ججز کی کنفرمیشن منظور کی گئی ان میں جسٹس حسن نواز مخدوم ، جسٹس ملک وقار حیدر، جسٹس سردار اکبر، جسٹس عبہر گل خان، جسٹس سید احسان، جسٹس ملک جاوید اقبال، جسٹس محمد جواد، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس، جسٹس چوہدری سلطان، جسٹس تنویر احمد شیخ شامل ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس میاں محمد شاہ، جسٹس نسیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر کی کنفرمیشن کی منظور دی گئی۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد حسن، جسٹس عبد الحمید بھورگی، جسٹس جان علی جنجوعہ، جسٹس نثار احمد بھنبھرو اور جسٹس علی حیدر کو بھی مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
تمام تقرریاں اور توسیعات وزیراعظم کے مشورے پر کی گئیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع ہائی کورٹ کے جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے توسیع کی منظوری کرنے کی منظوری ایڈیشنل ججز کی کی منظوری دی کی کنفرمیشن پشاور ہائی ایڈیشنل جج لاہور ہائی اور توسیع اور جسٹس کو مستقل
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔