قصور فائرنگ کیس: سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ برقرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے قصور میں 5 افراد کے قتل سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 6 ملزمان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے تمام اپیلیں مسترد کر دی ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے مدعی مقدمہ کی جانب سے سزائیں بڑھانے کی درخواست بھی خارج کردی۔
یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کی 3 رکنی بینچ نے سنایا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: بیوی کے قتل میں نامزد ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی خامی یا سقم موجود نہیں ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے عینی شاہدین کی گواہی قابلِ اعتماد ہے جبکہ میڈیکل رپورٹس میں مقتولین کے جسموں پر متعدد گولیوں کے زخموں کی تصدیق ہوتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کا پوسٹ مارٹم رات کے وقت فوری طور پر کیا گیا اور واقعے کی ایف آئی آر بھی بلا تاخیر درج کی گئی، جواستغاثہ کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے۔
یاد رہے کہ جنوری 2014 میں قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد ٹول پلازہ کے قریب اندھا دھند فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کر لی
اس واقعے سے متعلق درج کیس میں ٹرائل کورٹ نے 7 ملزمان کو 4 بار سزائے موت سنائی تھی جبکہ 3 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ایک ملزم کو بری کر دیا تھا جبکہ 6 ملزمان کی سزائے موت کوعمر قید میں تبدیل کردیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے اسی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمان اور مدعی دونوں کی اپیلیں خارج کردیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف آئی آر بری پوسٹ مارٹم ٹرائل کورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم جسٹس صلاح الدین پنہور جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ سزائے موت عینی شاہدین قتل قصور لاہور ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی ا ر پوسٹ مارٹم ٹرائل کورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم جسٹس صلاح الدین پنہور جسٹس ہاشم کاکڑ سپریم کورٹ سزائے موت عینی شاہدین قتل لاہور ہائیکورٹ لاہور ہائیکورٹ سپریم کورٹ نے سزائے موت
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔