سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں مجرم جواد علی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ ملزم کی کم عمری اور دیگر قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے سنایا۔

جواد علی کو ٹرائل کورٹ نے ننکانہ صاحب میں جولائی 2017 کے دوران طلحہ امجد کے قتل کے جرم میں سزائے موت اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ وقوعہ کے وقت مقتول کے والد محمد امجد اور چچا محمد آصف موقع پر موجود تھے اور وہ اس واقعے کے عینی شاہد ہیں۔

عدالت کے مطابق واقعہ صبح کے وقت پیش آیا، روشنی موجود تھی اور ملزم کی شناخت کے حوالے سے کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کر لی

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ طبی شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فورینزک شواہد نے بھی وقوعہ کی مکمل تصدیق کی ہے۔

مزید برآں، مقتول کے والد کے مطابق قتل کا محرک نوجوان کی عزت پر دباؤ اور سابقہ غیر اخلاقی مطالبات تھے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سنایا جس میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ملک شہزاد خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، جبکہ تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے جاری کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پوسٹ مارٹم ٹرائل کورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم سپریم کورٹ سزائے موت عدالت عظمیٰ عمر قید فورینزک قتل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پوسٹ مارٹم ٹرائل کورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم سپریم کورٹ سزائے موت عدالت عظمی فورینزک قتل سپریم کورٹ سزائے موت کورٹ نے

پڑھیں:

سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس