سپریم کورٹ: قتل کے مجرم جواد علی کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں مجرم جواد علی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ ملزم کی کم عمری اور دیگر قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے سنایا۔
جواد علی کو ٹرائل کورٹ نے ننکانہ صاحب میں جولائی 2017 کے دوران طلحہ امجد کے قتل کے جرم میں سزائے موت اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ وقوعہ کے وقت مقتول کے والد محمد امجد اور چچا محمد آصف موقع پر موجود تھے اور وہ اس واقعے کے عینی شاہد ہیں۔
عدالت کے مطابق واقعہ صبح کے وقت پیش آیا، روشنی موجود تھی اور ملزم کی شناخت کے حوالے سے کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے زنا بالجبر کے ملزم مدثر کی ضمانت منظور کر لی
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ طبی شواہد، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فورینزک شواہد نے بھی وقوعہ کی مکمل تصدیق کی ہے۔
مزید برآں، مقتول کے والد کے مطابق قتل کا محرک نوجوان کی عزت پر دباؤ اور سابقہ غیر اخلاقی مطالبات تھے۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سنایا جس میں جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ملک شہزاد خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، جبکہ تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے جاری کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پوسٹ مارٹم ٹرائل کورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم سپریم کورٹ سزائے موت عدالت عظمیٰ عمر قید فورینزک قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پوسٹ مارٹم ٹرائل کورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم سپریم کورٹ سزائے موت عدالت عظمی فورینزک قتل سپریم کورٹ سزائے موت کورٹ نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔
مزید :