Jasarat News:
2026-06-02@23:34:01 GMT

6ماہ بعد بھی سندھ سروس ٹریبونل کے چیئرمین کا عہدہ خالی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ سروس ٹریبونل میں 6ماہ بعد بھی چیئرمین کا تقررنہ ہو سکاجس کی وجہ سے صوبے کے 40 سے زاید سرکاری محکموں کے ملازمین کی اپیلیں فیصلے کی منتظر ہیں۔سندھ سروس ٹریبول کے چیئرمین صادق حسین بھٹی 18 جولائی 2025 ء کو ریٹائرہو گئے تھے اور6ماہ پوریہونے کے باوجود سندھ سروس ٹریبول میں چیئرمین تعینات نہ ہو سکاجس کی وجہ سندھ سروس ٹریبونل میں تقرری ،ترقی،سنیارٹی ،تبادلے پینشن اور ریٹائرمنٹ ،کنٹریکٹ اور ریٹائرمنٹ،محکمانہ انکوائری کے کارروائی پر اعتراض کیخلاف سیکڑوں اپیلوں کے فیصلے التواء کا شکار ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ سندھ سروس ٹریبونل کے ممبران چیئرمین کی عدم موجودگی میں اپیلوں کی سماعت تو کر رہے ہیں مگر سماعت کے بعد نئی تاریخ دی جا رہی ہے اورسماعت کا فیصلہ چیئرمین کے عدم تقرر کی وجہ سے جاری نہیں ہو پا رہا۔بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 40 سے زاید سرکاری محکموں کے سیکڑوں ملازمین نے انصاف کے حصول کے لیے سروس ٹریبونل میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔یاد رہے کہ سندھ سروس ٹریبونل کے ممبر طارق محمود کھوسو 16جون کو ریٹائر ہوئے ان کی جگہ عرفان احمد میئو کو نیاممبر مقررکیا گیا اس سے قبل ممبر طارق محمود کھوسو 16جون 2025کوریٹائر ہوئے تھے جن کی جگہ عرفان احمدمیو راجپوت کو تعینات کیا گیا تھا۔تاہم چیئرمین کے عہدے پر تعیناتی میں تاخیر سے سرکاری ملازمین ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور اپیلوں پر فیصلے کے منتظر ہیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود