بھارت کو سوچنا چاہیے ان کا پانی بھی تو دوسرے ملک سے آرہا ہے: مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کا کہنا ہے کہ بھارت کہتا ہے ہم انڈس ٹریٹی کو نہیں مانتے، پانی روک لیں گے، بھارت کو سوچنا چاہیے ان کا پانی بھی تو دوسرے ملک سے آرہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے بھی پاکستان سے چھیڑ خانی کر کے اس کا خمیازہ بھگت چکا ہے۔
مصدق ملک نے کہا کہ پانی روک کے چھوڑیں گے تو سیلاب آئے گا، پانی کو روک دیں گے تو قحط ہوگا، کوئی اس کو روکنے کا کہے گا تو ہم اس کو جنگ سمجھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 10 ملک ایسے ہیں جو دنیا کی 75 فیصد کاربن پیدا کرتے ہیں، یہی 10 ملک دنیا کی 85 فیصد فنانسنگ لے رہے ہیں، متاثرہ ممالک کو اس فنانسنگ سے کچھ خاص نہیں ملتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیلاب کو نہیں روکا جاسکتا، موسمیاتی تبدیلی عصر حاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے، ایک سیلاب میں نسلوں کا اثاثہ بہہ گیا، سیلاب میں اسکول، کتابیں اور مال مویشی سب بہہ گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں ہوتا ہے، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث ناگہانی آفات میں جانی و مالی نقصانات اٹھانا پڑے۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کاربن کے اخراج میں انتہائی معمولی حصہ ہے، ہمارے پڑوس میں دوملک ہیں جو 40 فیصد کاربن پیدا کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ مصدق ملک
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔