سانحہ گل پلازہ سے متعلق مارکیٹ کے دکانداروں کے چند چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ سے متعلق مارکیٹ کے دکانداروں نے چند چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں، تاہم سانحہ گل پلازہ کے بارے میں تحقیقات سے واضح ہوگا۔گل پلازہ کے دکانداروں نے میڈیا کو بتایا کہ جب آگ لگی چند منٹوں میں دیکھتے دیکھتے ہی اس نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لیا، لوگ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کررہے تھے لیکن آگ اتنی خوفناک تھی کہ اس نے انسانی زندگیوں کو نگل لیا اور تاجروں کو کنگال کردیا۔گل پلازہ کے دکانداروں فاروق لاکھڑا اور عبدالرزاق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتہ کو گل پلازہ معمول کے مطابق کھلا تھا۔شادی کے سیزن کے باعث رش تھا اور مارکیٹ رات دس بجے بند ہوجاتی ہے ، انہوں نے بتایا کہ ہفتہ کی رات مارکیٹ کے چند دروازے کھلے تھے باقی بند تھے۔جب آگ لگی تو مارکیٹ سے دکاندار اور گاہگ باہر نکالنے لگے لیکن آگ نے پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ لوگ خوف زدہ ہوگئے بہت سے لوگ نکل گئے اور کئی پھنس گئے۔پھر ایک سانحہ ہوگیا اور مارکیٹ تباہ ہوگئی۔ لوگ جل گئے اور یہ ایک بڑا سانحہ بن گیا۔انہوں نے بتایا کہ آگ گرائونڈ سے شروع ہوئی اور 20 منٹ میں اس نے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا، دکاندار عرش سے فرش پر آگئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدام سے مطمئن ہیں۔ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جائے، تاجروں کی مدد کی جائے۔انہوں نے کہا کہ گل پلازہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا کے متعلق سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی 1500 روپے ماہانہ مینٹینس چارجز لیتی تھی، کمیٹی پر 5500 روپے ماہانہ مینٹینس چارجز لینے کے الزامات غلط ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں۔اس سانحہ کے بعد 6 ہزار سے زائد افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے دکانداروں بتایا کہ گل پلازہ انہوں نے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔