پاکستان پہلی بار چین میں پانڈا گرین بانڈ جاری کرے گا، وزیرِ خزانہ محمداورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان رواں ماہ کے اختتام تک پہلی مرتبہ چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا کے ساتھ قدم رکھنے جا رہا ہے، جو گرین بانڈ کی شکل میں ہوگا۔
وزیر خزانہ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اس اقدام کو پائیدار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط مالیاتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم کا عکاس قرار دیا۔
’یہ پہلی بار ہے کہ ہم اس ماہ کے اختتام تک افتتاحی پانڈا بانڈ جاری کرنے جا رہے ہیں، اور یہ مکمل طور پر پائیدار فائنانس کے تناظر میں ہے، ایک ملک کے طور پر پاکستان موسمیاتی مالیات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اسی لیے یہ گرین بانڈ ہمارے لیے معاون ثابت ہوگا۔‘
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جنوری میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرے گا، وزارت خزانہ کا اعلان
ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پانڈا بانڈ دراصل چینی کرنسی رینمنبی میں جاری کیا جانے والا وہ بانڈ ہوتا ہے جو کوئی غیر چینی ادارہ، جیسے غیر ملکی کمپنی یا حکومت، چین کی مقامی مالیاتی منڈی میں جاری کرتی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق اس کے ذریعے جاری کنندہ کو چینی سرمایہ کاروں تک رسائی ملتی ہے اور رینمنبی کی بین الاقوامی حیثیت کو بھی فروغ ملتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے مالیاتی نظم و ضبط، قرضوں کے بامقصد استعمال اور برآمدات پر مبنی ترقی کو معاشی نمو کے نئے ذرائع کھولنے کے بنیادی راستے سے تعبیر کیا، ابھرتی معیشتوں کے نقطۂ نظر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرض بذاتِ خود منفی چیز نہیں، بشرطیکہ اسے پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔
Bond, denominated in Renminbi, is part of the country’s push to access sustainable and climate-resilient financing
Read: https://t.
— Profit (@Profitpk) January 22, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ قرضوں کو صرف کھپت کے بجائے ایسی سرمایہ کاری کی طرف موڑا جائے جو برآمدی سرپلس پیدا کرے، تاکہ پائیدار ادائیگی اور طویل المدتی ترقی ممکن ہو سکے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ابھرتی معیشتوں کے پاس ریزرو کرنسی کی سہولت نہیں ہوتی، اس لیے انہیں منڈی کی کارکردگی، محتاط قرض گیری اور زرمبادلہ کے خطرات کے مؤثر انتظام کو یقینی بنانا پڑتا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کا چینی مارکیٹ میں 30 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز فروخت کرنے کا فیصلہ
انہوں نے زور دیا کہ غیر پائیدار قرضوں کی صورتحال بنیادی طور پر کمزور مالیاتی نظم و ضبط کا نتیجہ ہوتی ہے، پاکستان نے قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کو 75 فیصد سے کم کرکے 70 فیصد تک لایا ہے، پرائمری سرپلس حاصل کیا ہے اور ذمہ دارانہ معاشی نظم و نسق کے ذریعے مالیاتی توازن بحال کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے زائد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گیا ہے، جس سے ملک شرحِ سود کے درست مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں:وفاقی وزیر خزانہ کا دورہ امریکا، پاکستان کی آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر فنڈنگ کی باقاعدہ درخواست
ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر کمزور ابھرتی معیشتوں کے لیے موسمیاتی خطرات حقیقی، بار بار آنے والے اور معاشی طور پر تباہ کن ہیں، انہوں نے بتایا کہ مالیاتی ذخائر کی تعمیر سے پاکستان کو حالیہ سیلابوں کا مقابلہ بین الاقوامی ہنگامی اپیلوں کے بجائے اپنے وسائل سے کرنے میں مدد ملی، جو مالیاتی استحکام کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے ماحولیاتی موافقت اور ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور کیپیٹل مارکیٹس کے کردار کو بھی اجاگر کیا، اور پاکستان کے سب سے بڑے 3.6 ارب ڈالر کے سنڈیکیٹڈ فائنانسنگ منصوبے کی مثال دی۔
مزید پڑھیں: چینی کرنسی میں بانڈ کا اجرا: کیا پاکستان ڈالر پر انحصار کم کر سکے گا؟
ان کے مطابق یہ منصوبہ 2028 سے سالانہ تقریباً 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات کا باعث بنے گا، جس سے پاکستان کی برآمدی بنیاد مضبوط ہوگی اور عالمی توانائی کی منتقلی کی ضروریات کو بھی سہارا ملے گا۔
ٹیکنالوجی فائنانسنگ اور نئی معیشت سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرِ خزانہ نے آئی ٹی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل سروسز میں پاکستان کی نمایاں صلاحیت پر زور دیا اور آئی ٹی برآمدات میں حالیہ اضافے کے ساتھ ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ، بلاک چین اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں جاری سرمایہ کاری کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ فنڈز تک رسائی نہیں بلکہ استعداد سازی، ترجیحات کے درست تعین اور مؤثر عملدرآمد ہے، تاکہ مواقع کو پائیدار ترقی میں بدلا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پالیسی ریٹ پانڈا بانڈ جی ڈی پی چین چینی زرمبادلہ سرمایہ سرمایہ کار سنگل ڈیجٹ فنڈز قرض کیپٹل مارکیٹ محمد اورنگزیب مہنگائی وزیر خزانہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پالیسی ریٹ پانڈا بانڈ جی ڈی پی چین چینی زرمبادلہ سرمایہ سرمایہ کار سنگل ڈیجٹ کیپٹل مارکیٹ محمد اورنگزیب مہنگائی گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب پانڈا بانڈ نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔