بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کا قریبی ساتھیوں اور کشمیری عوام کے نام خط، کیا پیغام دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بھارت کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری حریت رہنما یاسین ملک نے اپنے قریبی ساتھیوں اور کشمیری عوام کے نام خط لکھ کر اہم پیغام جاری کیا ہے۔
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مطابق بھارتی تہاڑ جیل میں گزشتہ 7 سال سے غیر قانونی طور پر پابندِ سلاسل اور علیل چیئرمین جناب محمد یاسین ملک نے گزشتہ ہفتے باوثوق اور بااعتماد ذرائع کے ذریعے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے اپنے قریبی ساتھیوں محمد رفیق ڈار، سلیم ہارون اور سید الطاف حسین قادری کی وساطت سے کشمیری عوام اور دنیا بھر میں پھیلے کشمیریوں کے لیے اپنا پیغام ارسال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: یاسین ملک کو رواں ماہ ہی پھانسی دیے جانے کا خدشہ ہے، مشعال ملک
محمد یاسین ملک نے تہاڑ جیل سے باضابطہ طور پر بھیجے گئے اپنی نوعیت کے پہلے واضح پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم بھارت کی موجودہ مرکزی حکومت کی ایما پر این آئی اے سمیت دیگر بھارتی تحقیقاتی اور خفیہ ادارے ان کے خلاف سیاسی عناد پر مبنی مقدمات میں متعصبانہ عدالتی فیصلے مسلط کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول غیر قانونی اور غیر اخلاقی حربوں کے ذریعے جاری یہ غیر منصفانہ عدالتی کارروائیاں غالب امکان ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت پھانسی کی سزا پر منتج ہوں۔
گرفتاری سے عمر قید تک کا پس منظریاسین ملک نے کہا کہ 22 فروری 2019 کو گرفتاری سے لے کر 25 مئی 2022 کو نئی دہلی کی خصوصی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائے جانے تک اور اب پھانسی کے لیے مبینہ منصوبہ بند سازش کے تحت جاری یکطرفہ عدالتی کارروائیاں دراصل حکومتی خاکوں میں رنگ بھرنے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اوپر عائد تمام بے جا الزامات کی حقیقت گزشتہ سال اکتوبر میں عدالت میں جمع کرائے گئے تفصیلی تحریری بیان سے قبل متعدد بار ثبوتوں کے ساتھ زبانی طور پر بھی پیش کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت کی انتقامی کارروائی، یاسین ملک کو 35 سال پرانے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شہید قریبی دوستوں بالخصوص اشفاق مجید وانی اور شیخ عبدالحمید کے ساتھ کیے گئے وعدے پر قائم ہیں، جس کی پاسداری میں نہ ماضی میں ہچکچاہٹ دکھائی اور نہ آج عزم میں کوئی لغزش آئی۔
عدم تشدد اور سفارتی جدوجہدیاسین ملک کے مطابق نوجوانی سے ادھیڑ عمری تک انہوں نے پوری دلجمعی، اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ قومی تحریک آزادی کو بغیر کسی ذاتی مفاد کے آگے بڑھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ جموں کشمیر کو بین الاقوامی برادری کی توجہ کا مرکز بنانے کے لیے انہوں نے پہلے ایک سپاہی اور بعد ازاں بھارتی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری کے اصرار پر عدم تشدد کے اصولوں پر کاربند سیاسی مزاحمتکار کا کردار اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہند و پاک اور بین الاقوامی برادری کی رضامندی سے مذاکرات کار کے طور پر بھی ذمہ داری نبھائی اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر مذاکرات کی کامیابی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 13 سالہ رضیہ سلطان کی اپنے والد یاسین ملک کو بھارتی مظالم سے بچانے کے لیے عالمی برادری سے اپیل
یاسین ملک کے مطابق فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد، انتہا پسندی، طاقت کا نشہ، سفارتی و افسر شاہی داؤ پیچ، مسلسل سازشیں، بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور کشمیریوں کی اپنی نااتفاقی مسئلہ جموں کشمیر پر ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنیں۔
سنجیدہ مذاکرات کی بحالی پر زور
انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مسئلہ جموں کشمیر کے آبرومندانہ اور منصفانہ حل کے لیے ہند، پاک اور کشمیری فریقین کے درمیان سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے تاکہ ریاست جموں کشمیر خطے میں دوستی کے پل کا کردار ادا کر سکے۔
کشمیری تاریخ اور مزاحمتیاسین ملک نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی 5 ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری قوم جنگجوانہ پس منظر نہیں رکھتی، تاہم اس قوم نے کبھی بھی کسی بیرونی طاقت کے ناجائز قبضے کو تسلیم نہیں کیا اور مختلف ادوار میں مزاحمت کے ذریعے کامیابیاں حاصل کیں۔
انہوں نے کہا کہ بے مثال قربانیوں سے بھرپور اس تحریک کو قومی آزادی تک پہنچانا اب تمام آزادی پسند ساتھیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
جے کے ایل ایف کا ہنگامی اجلاسدوسری جانب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی اعلیٰ قیادت کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں یاسین ملک کے مقدمے کی تازہ صورتحال اور ان کے پیغام پر غور و خوض کیا گیا۔
مشترکہ اجلاس اور قرارداد کا مطالبہاجلاس میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اور پاکستان قومی اسمبلی کے اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا کہ اپنی اپنی اسمبلیوں کا مشترکہ اجلاس بلا کر یاسین ملک کے معاملے پر مشترکہ قرارداد منظور کی جائے۔
یوم شہادت کی تقریبات کا اعلاناجلاس کے اختتام پر شرکا نے 1990 کے گاؤ کدل قتل عام کے شہداء کو یاد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 11 فروری کو بابائے قوم محمد مقبول بٹ کا 42 واں یوم شہادت ملی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔
بھارت سے محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات کشمیریوں کو واپس کرنے کا مطالبہاس موقع پر اندرون و بیرون ریاست جموں کشمیر احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں گے جن میں بھارت سے محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کی باقیات کشمیریوں کو واپس کرنے کا مطالبہ دہرایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بھارت خط کشمیر یاسین ملک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت یاسین ملک بین الاقوامی برادری انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کے یاسین ملک نے اور کشمیری مذاکرات کی تہاڑ جیل کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔