چیٹ جی پی ٹی اب صارفین کی عمر کا اندازہ بھی لگائے گا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں ایک نئی ٹیکنالوجی شامل کر دی ہے جو صارفین کی عمر کی پیشگوئی کر سکے گی۔ یہ فیچر خاص طور پر کم عمر صارفین کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق، وہ صارفین جو 18 سال سے کم عمر ہیں اور اپنی عمر چیٹ جی پی ٹی کو فراہم نہیں کرتے، ان کی عمر اس نئے سسٹم کے ذریعے اندازے سے معلوم کی جائے گی۔
یہ سافٹ ویئر صارف کے رویّے اور مختلف اشاروں کو مدنظر رکھے گا، جیسے اکاؤنٹ کب بنایا گیا، کس وقت زیادہ سرگرمی ہوتی ہے اور استعمال کا مجموعی انداز کیسا ہے۔ ان عوامل کی بنیاد پر عمر کا تخمینہ لگایا جائے گا۔
اگر سسٹم کسی بالغ صارف کو غلطی سے کم عمر قرار دے دے تو اسے اپنی عمر کی تصدیق کا موقع دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے لائیو سیلفی اور شناختی کارڈ کے ذریعے ایک علیحدہ شناختی سروس استعمال کی جا سکے گی۔
واضح رہے کہ اس سسٹم کی تیاری کا اعلان ستمبر 2025 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد کم عمر صارفین کو اے آئی چیٹ بوٹس پر موجود حساس یا ممکنہ طور پر نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔
تاہم، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ چیٹ جی پی ٹی کسی فرد کی عمر کا اندازہ کتنی درستگی سے لگا سکے گا، خاص طور پر ایسے پلیٹ فارم پر جہاں صارفین کی تعداد 80 کروڑ سے زیادہ ہو۔
اوپن اے آئی اور دیگر اے آئی کمپنیوں کو ماضی میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، حتیٰ کہ بعض معاملات میں بچوں کو پہنچنے والے نقصانات کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
اسی تناظر میں، اوپن اے آئی نے 2025 میں چیٹ جی پی ٹی میں اضافی پیرنٹل کنٹرولز متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا تھا تاکہ بچوں کے لیے آن لائن تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اے ا ئی کی عمر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔