اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی و شجرکاری کی نگرانی کے لیے ماہر کمیٹیاں قائم کی جائیں، شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اور شجرکاری کے معاملات پر تفصیلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں قائم کرنے، شفافیت اور عوامی مشاورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا جنگلاتی رقبہ خطے میں سب سے کم، صرف 5 فیصد ہے، جس کا تحفظ ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، سی ڈی اے اور وزارتِ صحت کے حکام نے آگاہ کیا کہ کاغذی شہتوت (Paper Mulberry) کے خاتمے سے پولن الرجی میں کمی کے آثار سامنے آئے ہیں اور ہر کاٹے گئے درخت کے بدلے 3 مقامی و غیر الرجک درخت لگائے گئے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا سخت ردعمل
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ دارالحکومت کے سبزہ زاروں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
درختوں کی کٹائی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: درختوں کی کٹائی میں درختوں کی کٹائی اسلام آباد
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔