وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی بل گیٹس سے ملاقات; تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سٹی 42: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی بل گیٹس سے ملاقات ہوئی ۔صحت اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔
ملاقات میں صحت کے شعبے میں گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔
وزیر خزانہ نے پاکستان میں گیٹس فاؤنڈیشن کی دیرینہ معاونت، بالخصوص پولیو کے خاتمے میں اس کے اہم کردار پر شکریہ ادا کیا۔ بل گیٹس نے پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے پولیو کے خاتمے اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
وزیر خزانہ نے کہا شفافیت اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ملکی وسائل میں اضافہ حکومت کی اہم ترجیح ہے ۔
بل گیٹس نے کہا مؤثر ٹیکس نظام طویل المدتی معاشی خود انحصاری کے لیے نہایت اہم ہے۔ ڈیجیٹل ذرائع سے ٹیکس وصولی، حکمرانی اور عوامی خدمات میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بل گیٹس
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔