رومانیا کے سفیر ڈان سٹوئنزکو کی سپیریئر یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات ،اکیڈمک تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
رومانیا کے سفیر ڈان سٹوئنزکو کی سپیریئر یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات ،اکیڈمک تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )رومانیہ کے سفیر ڈان سٹوئنزکو نے سپیریئر یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات کی، جس میں تعلیم اور اکیڈمک تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو میں اداروں کے درمیان شراکت کو مضبوط بنانے، طلبا اور فیکلٹی کی نقل و حرکت کو فروغ دینے، اور مشترکہ نوآوری اور باہمی سمجھ بوجھ کو بڑھانے والے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔سفیر نے کہا کہ تعلیم دوطرفہ تعلقات کو گہرا بنانے اور ہماری سماجوں کے درمیان دیرپا تعلقات قائم کرنے کا ایک اہم ستون ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین پاکستان اقتصادی راہداری کو اپ گریڈ کرنے کا وقت آ گیا چین پاکستان اقتصادی راہداری کو اپ گریڈ کرنے کا وقت آ گیا رومانیہ کے سفیر کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس کا دورہ ، بزنس کمیونٹی سے ملاقات این اے 85: الیکشن کمیشن نے قادر خان کی نااہلی کی درخواست مسترد کر دی اٹھارویں ترمیم میں مزید بہتری کا راستہ آئین میں موجود ہے، رانا ثنا اللہ ملک بھر میں بارشوں، اسلام آباد سمیت بالائی علاقوں میں ژالہ باری اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان اسحاق ڈار کی تھائی ہم منصب سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔