data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیا جاننےوالے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟(القران 39:9)۔
ہرگز نہیں!تخلیق آدم کے وقت سے اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ سلام کو “اشیاء کا علم” عطا فرما کر فرشتوں سے ممتاز فرمایا۔۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کا آغاز اقراء سے فرمایا اور اپنی کتاب میں یہ نوید دی کہ اللہ تم میں سے جو علم والے ہیں ان کے درجات بلند کرے گا(58:11)تعلیم ہر بچہ کا بنیادی حق ہے اس کا حق ہے کہ اسے علم ہو کہ اس کا خالق کون ہے؟ اس کا مقصد تخلیق کیا ہے؟اس دنیا کہ معاشرت کے اصول کیا ہیں؟اور کامیابی کا معیار کیا ہے؟ فلاح کا رستہ کونسا ہے ؟۔ہر معاشرے کا تعلیمی نصاب اس کی نظریاتی بنیادوں کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہےبحیثیت اسلامی جمہوریہ پاکستان ہمارے تعلیمی نصاب کا بھی ہماری نظریاتی اور قومی امنگوں سےہم آہنگ ہونا ضروری ہےتاکہ نہ صرف اس دنیا میں میں بلکہ آخرت میں بھی ہماری نسلیں ابدی فلاح پاسکیں۔تعلیمی نصاب اور معیار کی اہمیت اس لئے بھی دوچند ہے کہ شخصیت سازی، انسانی کرامت و عزت کے بلند کرنے میں علم کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔جہاں بات ہے معیار تعلیم کی تو یہ اچھی عمارت،مہنگا نصاب،بھاری فیسں اور خوشنما یونیفارم سے بڑھ کر خالق کی پہچان ، مخلوق کا احترام،انسانی وقار شرافت عزت و کرامت کا نام ہے۔فی الوقت ہمارا تعلیمی نظام تاریخ کےنہایت کڑے دور سے گزر رہا ہے، ایک طرف طبقاتی نظام تعلیم تو دوسری جانب حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیز،گھوسٹ اسکولز کی بھرمار، خستہ حال عمارتیں غیر مرئی اساتذہ۔ جہاں دیگر ممالک میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ریاست اپنے خرچہ پر اجاگر کرتی ہیں وہاں ہمارے ہاں گنے چنے تعلیمی ادارے جو ایک کثیر آبادی کی ضرورت کے لئے ناکافی تو ہیں ہی ساتھ میں انہیں بھی پرائیوٹ سیکٹر کہ گود میں ڈال کر اپنی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچا جارہا ہے۔ذاتی وسائل رکھنے والے تو اپنے بچوں کی پروفیشنل تعلیم کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں لیکن عوام کی کثیر تعداد کے دسترس سے یہ منصوبہ بھی باہر ہیں۔ایسے میں جماعت اسلامی کی کاوشیں معیارئ تعلیم کے اسکولز کی چین، بیٹھک اسکولز سسٹم، اور خواتین کے لئے قران انسٹیٹوٹ۔دینی تعلیم کے لئے جامعات المحصنات ، آغوش جہاں معاشرے میں ایک دہائ سے زائد عرصہ سے اپنی خدمات پیش کررہے وہاں ایک اور احسن قدم نوجوانوں کو آئ ٹی کے میدان میں باصلاحیت کرنا ان کو اس شعبہ کی مہارتیں سکھا کر خود مختار کرنا ،معاشرے میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے جی ہاں بنو قبل پروگرام ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بچے بچیاں اس سے مستفید ہوئے اور ہو رہے ہیں۔اس سے ناصرف انفرادی زندگیاں بہتر ہورہی ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط سہارا ملے گا۔۔بے شک یہ کاوشیں روشن مستقبل۔کی جانب احسن اقدام ہیں لیکن ریاسبے شک یہ کاوشیں روشن مستقبل۔کی جانب احسن اقدام ہیں لیکن ریاستی اقدامات کا متبادل ہر گز نہیں ہوسکتیں۔ ضرورت ہےحکومتی سطح سے اقدامات اور وسائل و اختیارات کا دیانت داری و عدل۔کے ساتھ استمعال۔۔اور معیاری تعلیم کی فراہمی تاکہ پاکستان کا ایک بھی بچہ اپنے بنیادی حق تحصیل علم سے محروم نہ رہ سکے۔کیونکہ علم ہی دنیا و آخرت کے درجات کی بلندی کا ضامن ہے۔عمارہ زبیر
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔