لاہور: شیرنی کے حملے کے بعد غیر قانونی طور پر رکھے گئے 11 شیر برآمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
لاہور میں ایک شیرنی کے بچے پر حملے کے واقعے میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، جب پولیس نے غیر قانونی طور پر رکھے گئے 11 شیر برآمد کیے اور ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق، برآمد کیے گئے جانوروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں، جو نواں کوٹ کے علاقے میں ایک فیکٹری میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے تھے۔
واقعے میں 8 سالہ بچی زخمی ہوئی، جس کے کان اور گردن پر زخم آئے۔ شیر چند ماہ قبل شیخوپورہ سے لاہور منتقل کیے گئے تھے، اور ملزمان کے پاس ان کو لاہور میں رکھنے کا کوئی لائسنس موجود نہیں تھا۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تمام شیر محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزمان خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔