لاہور میں شیرنی کا بچی پر حملہ، غیر قانونی طور پر رکھے 11 شیر برآمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
فائل فوٹو
لاہور میں شیرنی کے بچی پر حملہ کرنے کے واقعے میں مزید پیشرفت ہوئی ہے، غیر قانونی طور پر رکھے گئے مزید11 شیر برآمد کرکے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جانورں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں، شیروں کو نواں کوٹ کے علاقہ میں فیکٹری میں رکھا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بھیکے وال پنڈ میں پالتو شیرنی کے حملے سے 8 سال کی بچی زخمی ہوئی، جسے اسپتال منتقل کردیا گیا، بچی کے کان اور گردن پر زخم آئے ہیں۔
شیروں کو چند ماہ قبل شیخوپورہ سے لاہور شفٹ کیا گیا تھا، ملزمان کے پاس شیروں کو لاہور میں رکھنے کا لائسنس موجود نہیں تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے شیروں کو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا گیا، ملزمان خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شیروں کو
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔