City 42:
2026-06-02@22:07:14 GMT

ایکسائز کے ٹیکس ٹارگٹ ،وصولی،لاہورشہر پنجاب بھر پر بھاری

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

سٹی42: شہر لاہور نے رواں سال ایکسائز ٹیکس کے مجموعی ٹارگٹ میں نمایاں حصہ ڈال دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے شہری رواں سال 73 ارب روپے کے ٹیکس ٹارگٹ میں سے تقریباً 50 فیصد یعنی 37 ارب روپے ٹیکس ادا کریں گے، جو پنجاب بھر میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور شہر نے موٹر ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سمیت مختلف محکموں میں نمایاں ٹیکس وصولی کی ہے۔ شہر نے رواں سال موٹر ٹیکس کی مد میں ساڑھے 18 کروڑ روپے، پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 16 ارب روپے اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ڈھائی ارب روپے سے زائد ٹیکس ادا کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

بسنت پر لاہور میں شہریوں کیلئے فری ٹرانسپورٹ چلائی جائے گی

پہلے چھ ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی 43 ارب روپے میں سے 23 ارب روپے کی وصولی لاہور سے کی گئی، جو کہ مجموعی ٹارگٹ کے نصف سے زیادہ کے برابر ہے۔
رواں سال اب تک موٹر ٹیکس کی مد میں لاہور سے 12 ارب روپے کی وصولی ہو چکی ہے جبکہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 9 ارب روپے سے زائد کی وصولی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1 ارب 90 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی لاہور سے کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 ٹیکس کی مد میں ارب روپے رواں سال کی وصولی

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا