لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں چوری کی انوکھی واردات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں چوری کی ایک ایسی واردات سامنے آئی ہے جس نے پولیس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی حیران کر دیا۔ نامعلوم چور کسی قیمتی زیورات یا نقدی کے بجائے گھر سے مہنگے جوتوں کا مکمل ذخیرہ سمیٹ کر رفوچکر ہوگیا۔
پولیس کے مطابق چور نے مردانہ، زنانہ، بچوں اور ملازمین کے جوتوں سمیت مجموعی طور پر 1 لاکھ 43 ہزار روپے مالیت کے فٹ ویئر پر ہاتھ صاف کیا۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے 68 ہزار روپے کے 2 مردانہ جوتوں کے جوڑے، 50 ہزار روپے کا لیڈیز جوتا، 20 ہزار روپے کے بچوں کے شوز اور 5 ہزار روپے کے ملازمین کے سلیپرز چرا لیے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چور صرف ڈیڑھ منٹ میں جوتے سمیٹ کر موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزم کی شناخت کی جا رہی ہے، جسے جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہزار روپے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔