data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری)اولین ایڈیشن کی شاندار کامیابی کے بعد، ’’سسٹین ایبل ٹورزم فورم اینڈ ایکسپو‘‘ (Sustainable Tourism Forum & Expo) دوسرا ایڈیشن بعنوان ‘‘Transforming Tourism for Community Development’’ کے ساتھ دوبارہ منعقد کیا جا رہا ہے، جسے اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیویلپمنٹ (ICCD) نے وزارتِ تجارت اور بورڈ آف انویسٹمنٹ، حکومتِ پاکستان کی سرپرستی میں کراچی کے مقامی ہوٹل میں منقعد کیا گیا ہے۔

البرکہ بینک پاکستان اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) بطور اسٹریٹجک پارٹنرز، اسلامک کوآپریشن یوتھ فورم (ICYF) بطور یوتھ پارٹنر اور ایئر بلو بطور ایئر لائن پارٹنر اس اہم تقریب کا حصہ ہیں۔ یہ تاریخی فورم پائیدار سیاحت، سرمایہ کاری اور اسلامی معیشتوں کے نمایاں رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے تاکہ سیاحت کو پائیداری، شمولیت اور مشترکہ خوشحالی کے تناظر میں ازسرِ نو متعین کیا جا سکے اور اسے اقتصادی ترقی، ثقافتی تحفظ اور ماحولیاتی اقدامات کے لیے محرک کے طور پر مضبوط بنایا جا سکے۔

کلیدی خطابات، پینل مباحثوں، ورکشاپس، سمپوزیم اور انویسٹرز پِچ جیسے جامع پروگرام کے ذریعے ایس ٹی ایف 2026 نے اخلاقی سرمایہ کاری، ماحولیاتی لچکدار انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل جدت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کی اہمیت پر عملی رہنمائی فراہم کی، تاکہ سیاحت کو منصفانہ اور پائیدار ترقی کے مضبوط ذریعے میں ڈھالا جا سکے۔

تقریب کا آغاز اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیویلپمنٹ (ICCD) کے سیکریٹری جنرل، عزت مآب جناب یوسف حسن خلاوی کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا جنہوں نے ایک منصفانہ، مضبوط اور پائیدار سیاحت کے شعبے کے قیام کے لیے مشترکہ عالمی عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ’’ہم اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس سالانہ بین الاقوامی فورم، جس میں نمائش، کانفرنس، کیپیسٹی بلڈنگ پروگرامز اور ٹیکنالوجیکل ایڈوانسمنٹس شامل ہیں، کو پائیدار سیاحت کے ایک عالمی سربراہی اجلاس میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔‘‘

اسی تناظر میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر، عزت مآب جناب عاطف اکرام شیخ نے اپنے خطاب میں سیاحت کے شعبے کو پائیدار معاشی ترقی کا محرک قرار دیتے ہوئے کہا ’’سیاحت ایک اسٹریٹجک معاشی شعبہ ہے اور روزگار، سرمایہ کاری، ثقافتی تبادلے اور عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے ایک طاقتور انجن ہے۔‘‘

پالیسی کو عملی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑتے ہوئے، ایس ٹی ایف 2026 میں پاکستان کے وفاقی وزیر سرمایہ کاری، عزت مآب جناب قیصر احمد شیخ کی اعلیٰ سطحی شرکت رہی، جنہوں نے کہا ’’پاکستان مختلف تہذیبوں کا مرکزی سنگم ہے اور یہاں ثقافتوں کا بھرپور تنوع، تاریخی مقامات اور دنیا کی بعض بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں۔ اپنی بڑی مسلم آبادی کے ساتھ پاکستان کے پاس بالخصوص سیاحت کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں، جن کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔‘‘

مزید برآں، عزت مآب جناب طارق مصطفی، مشیر گورنر سندھ، نے اپنے کلیدی خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا ’’سسٹین ایبل ٹورزم اب محض ایک ابھرتا ہوا تصور نہیں رہا بلکہ یہ عالمی معاشی ترقی کے لیے بنیادی ستون بن چکا ہے۔ یہ روزگار پیدا کرتی ہے، ثقافتی ہم آہنگی کو مضبوط بناتی ہے، ماحول کے تحفظ کو فروغ دیتی ہے اور روابط کو مستحکم کرتی ہے۔‘‘

ایک اہم موڑ پر ایس ٹی ایف نمائش (STF Exhibition) کا افتتاح کیا گیا جس نے سستین ایبل ٹورزم فورم کے لیے ایک نمایاں سنگِ میل کی حیثیت اختیار کی کیونکہ اس نے قابلِ توسیع حلوں، بین الشعبہ جاتی شراکت داریوں اور سرمایہ کاری کے قابل ماڈلز کے لیے ایک عملی پلیٹ فارم مہیا کیا جو پائیدار سیاحت کے اعلیٰ ترین معیارات کی عکاسی کرتے ہیں۔

فورم کے دوران البرکہ بینک پاکستان کے صدر و سی ای او، عزت مآب جناب محمد عاطف حنیف نے اپنے کلیدی خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا ’’سستین ایبل ٹورزم کو آسان الفاظ میں ایسی سیاحت کہا جا سکتا ہے جو آنے والی نسلوں کی ضروریات پر سمجھوتہ نہ کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سیاحت ہم آج کر رہے ہیں وہ ماحول کو اس حالت میں چھوڑے کہ اگلی نسل بھی انہی مواقع سے فائدہ اٹھا سکے، بغیر اس کے کہ یہ مواقع ختم ہو جائیں۔‘‘

دو روزہ بامعنی مکالمے کے اختتام پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے سابق صدر، عزت مآب جناب زبیر طفیل نے فورم کے اہم نکات پر اسٹریٹجک تبصرہ پیش کیا اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار سیاحت کے لیے ایک مستقبل بین وژن بیان کیا۔

ایس ٹی ایف 2026 ایک عملی نوعیت کا بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد سرمایہ کاری کے لیے تیار سیاحتی منصوبوں کو آگے بڑھانا، سرحد پار شراکت داریوں کو فروغ دینا اور ایسے قابلِ توسیع ماڈلز کو متعارف کرانا ہے جو ماحولیاتی ذمہ داری، ثقافتی اصالت اور مالی پائیداری کو یکجا کرتے ہوں۔ یہ پلیٹ فارم آئی سی سی ڈی کے ادارہ جاتی مینڈیٹ کے مطابق مسلم دنیا میں پائیدار اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے حکومتوں، کاروباری اداروں، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کو یکجا کرتا ہے، تاکہ سیاحت کو وقار، ترقی اور بین النسلی مساوات کی قوت میں تبدیل کیا جا سکے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پائیدار سیاحت کے دیتے ہوئے کہا آف کامرس اینڈ سرمایہ کاری ایبل ٹورزم ایس ٹی ایف کے لیے ایک پلیٹ فارم کے ساتھ جا سکے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ