پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: رکن ممالک کے اختیارات کیا ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اس فیصلے کے ساتھ امید ظاہر کی ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ اور تعمیرِ نو کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں گے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا تھا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ اس کے ایک روز بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کی، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
پاکستان کے ساتھ ساتھ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر بھی اس بورڈ میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قازقستان، پیراگوئے اور ازبکستان نے بھی شمولیت کی تصدیق کی ہے۔
گزشتہ روز پاکستان سمیت کئی مسلم اور علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ تمام ممالک اپنے اپنے قوانین کے مطابق بورڈ آف پیس کی دستاویزات پر دستخط کریں گے۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرہ کار میں امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، جس کا مقصد مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔
تاہم پاکستان کے اس فیصلے پر ملک کے اندر شدید سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی موجودگی میں کسی امن منصوبے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
اس صورتحال میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بورڈ آف پیس کے اختیارات کیا ہیں اور اس میں شامل ممالک کا کردار کس نوعیت کا ہو گا؟
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کی شمولیت کا بنیادی مقصد مکمل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی ازسرِنو تعمیر ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان اس بورڈ میں مستقل رکن کے طور پر شامل ہوا ہے یا محدود مدت (تین سال) کے لیے۔
بی بی سی کو دستیاب بورڈ آف پیس کے چارٹر کے مطابق، ہر رکن ملک کی رکنیت کی مدت چیئرمین (صدر ٹرمپ) کی صوابدید پر ہو گی، اور وہ چاہیں تو اس کی تجدید بھی کر سکتے ہیں۔ البتہ چارٹر میں یہ بھی درج ہے کہ جو ممالک بورڈ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گے، ان پر تین سالہ مدت کی شرط لاگو نہیں ہو گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چارٹر میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر فراہم کرنے والے ممالک اور دیگر رکن ممالک کے اختیارات یا اثر و رسوخ میں کیا فرق ہو گا۔
بی بی سی نے اس حوالے سے پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے سوالات بھیجے ہیں، تاہم تاحال کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیم میں شامل ایک اہم شخصیت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئیں اور پاکستان عالمی برادری کی طرح اسی سطح پر اس عمل میں شریک ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان کی شمولیت کو ایک سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات، اختیارات اور نتائج آنے والے دنوں میں ہی واضح ہو سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس پاکستان کی نہیں کیا نہیں کی شامل ہو کے لیے گیا کہ
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز