پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے قائم کیے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اس فیصلے کے ساتھ امید ظاہر کی ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ اور تعمیرِ نو کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں گے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا تھا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔ اس کے ایک روز بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کی، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
پاکستان کے ساتھ ساتھ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر بھی اس بورڈ میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قازقستان، پیراگوئے اور ازبکستان نے بھی شمولیت کی تصدیق کی ہے۔
گزشتہ روز پاکستان سمیت کئی مسلم اور علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ تمام ممالک اپنے اپنے قوانین کے مطابق بورڈ آف پیس کی دستاویزات پر دستخط کریں گے۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرہ کار میں امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، جس کا مقصد مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔
تاہم پاکستان کے اس فیصلے پر ملک کے اندر شدید سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی موجودگی میں کسی امن منصوبے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
اس صورتحال میں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بورڈ آف پیس کے اختیارات کیا ہیں اور اس میں شامل ممالک کا کردار کس نوعیت کا ہو گا؟
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کی شمولیت کا بنیادی مقصد مکمل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ کی ازسرِنو تعمیر ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان اس بورڈ میں مستقل رکن کے طور پر شامل ہوا ہے یا محدود مدت (تین سال) کے لیے۔
بی بی سی کو دستیاب بورڈ آف پیس کے چارٹر کے مطابق، ہر رکن ملک کی رکنیت کی مدت چیئرمین (صدر ٹرمپ) کی صوابدید پر ہو گی، اور وہ چاہیں تو اس کی تجدید بھی کر سکتے ہیں۔ البتہ چارٹر میں یہ بھی درج ہے کہ جو ممالک بورڈ کے فنڈ میں ایک ارب ڈالر جمع کروائیں گے، ان پر تین سالہ مدت کی شرط لاگو نہیں ہو گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چارٹر میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ایک ارب ڈالر فراہم کرنے والے ممالک اور دیگر رکن ممالک کے اختیارات یا اثر و رسوخ میں کیا فرق ہو گا۔
بی بی سی نے اس حوالے سے پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے سوالات بھیجے ہیں، تاہم تاحال کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیم میں شامل ایک اہم شخصیت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئیں اور پاکستان عالمی برادری کی طرح اسی سطح پر اس عمل میں شریک ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان کی شمولیت کو ایک سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات، اختیارات اور نتائج آنے والے دنوں میں ہی واضح ہو سکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس پاکستان کی نہیں کیا نہیں کی شامل ہو کے لیے گیا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل