اپوزیشن کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر ایوان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
فائل فوٹو
اپوزیشن نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر حکومت سے ایوان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم نے فلسطین کیلئے غزہ بورڈ آف پیس کو بغیر مشورہ خوش آئند قرار دیا، حکومت نے ایوان کو نظر انداز کر دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس پر اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھوں گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایوان میں لائے بغیر اس معاملے پر فیصلہ کرنا غلط ہے، بورڈ آف پیس میں کن شرائط پر شامل ہوئے، بتایا جائے؟
اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف اس معاملے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ امت مسلمہ اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرنے ہوتے ہیں، غزہ کی تعمیر نو اور مستقل فائر بندی کیلئے بورڈ آف پیس میں جانے کا فیصلہ کیا، اس بات پر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس میں نے کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔