"منریگا" اسکیم عوام کی آواز ہے اسے ختم نہیں ہونے دیںگے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ منریگا کو ختم کرنا محض کمزور طبقات پر حملہ نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کو عوامی یادداشت سے مٹانے کی سازش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے جمعرات کو مرکز کی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو ختم کر کے اسے "وکست بھارت — گیارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (گرامین) ایکٹ، 2025" سے بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منریگا عوام کی آواز اور ان کا بنیادی حق ہے اور کانگریس کسی بھی قیمت پر اسے ختم نہیں ہونے دے گی۔
جواہر بھون میں منعقد نیشنل منریگا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی موجودگی میں راہل گاندھی نے کہا کہ منریگا نے غریبوں کو حق دیا، وقار کے ساتھ روزگار مانگنے کا حق۔ یہ عوام کی آواز تھی، جسے نریندر مودی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے تین زرعی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کسانوں نے سیاہ قوانین کو روک دیا، اسی طرح آج مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق نئی اسکیم کے تحت مرکز یہ طے کرے گا کہ کس ریاست کو کتنا پیسہ ملے گا اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو زیادہ جبکہ اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں کو کم فنڈ دیا جائے گا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اب مرکز ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ کہاں کام ہوگا، کب ہوگا اور مزدوری کتنی ملے گی، جبکہ مزدوروں کے جو حقوق تھے وہ ٹھیکیداروں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کا نظریہ یہ ہے کہ ملک کی دولت چند لوگوں کے ہاتھ میں رہے اور وہی ملک کو چلائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی جمہوریت، آئین اور "ایک شخص، ایک ووٹ" کے تصور کو ختم کرنا چاہتی ہے، یہ لوگ آزادی سے پہلے والے ہندوستان کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر انہیں روکنا ہوگا، جس دن ہم سب اکٹھے ہو گئے، نریندر مودی کو پیچھے ہٹنا پڑے گا اور منریگا بحال ہو جائے گا۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منریگا کو ختم کرنا محض کمزور طبقات پر حملہ نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کو عوامی یادداشت سے مٹانے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومت نے مہاتما گاندھی کے نام والی اسکیم کو ختم کرنے کی جرأت کی ہے۔ قوم اسے برداشت نہیں کرے گی۔ کھڑگے نے کہا کہ منریگا نے 100 دن کے روزگار کی قانونی ضمانت دی تھی، جسے اب ختم کیا جا رہا ہے اور کانگریس اس حق کو بچانے کے لئے ہر سطح پر جدوجہد کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ منریگا راہل گاندھی نے مہاتما گاندھی انہوں نے بی جے پی کو ختم
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔