Daily Mumtaz:
2026-06-02@20:46:41 GMT

ڈیووس 2026: پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

ڈیووس 2026: پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی

پاکستان نےورلڈ اکنامک فورم 2026 میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پربورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد فلسطین میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔
بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصدغزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی بحران کا خاتمہ اور فلسطین کی منظم و جامع تعمیرِ نو ہے۔ اس منصوبے کے تحت گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی و بجلی کے نظام کی بحالی، معاشی سرگرمیوں کی فروغ اور فلسطینی عوام کو باعزت زندگی فراہم کرنا شامل ہے۔ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کیے جائیں گے۔
پاکستان نے اس اقدام میںسعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکہ کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے۔ مسلم ممالک کی مضبوط موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ فلسطینی حقوق، حقِ خود ارادیت اور ریاستی تشخص مرکزی حیثیت رکھیں۔
پاکستان کا موقف بدستور واضح اور غیر متزلزل ہے:1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف اس کا دارالحکومت، اور قبضے و اجتماعی سزا کی ہر صورت مخالفت۔
تقریب کے دوران فلسطینی وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے راستے میں ملاقات کی، مصافحہ کیا اور غزہ میں امن کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت، نسل کشی کے خاتمے کی کوششوں اور فلسطینی عوام کے حق میں مضبوط موقف پر شکریہ ادا کیا۔
دستخطی تقریب میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلۂ خیال ہوا، اور صدر ٹرمپ نےفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں انگوٹھے کے اشارے سے سراہا۔ یہ پاکستان کی قیادت کی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر حاصل شدہ پذیرائی کا مظہر ہے۔
واضح رہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کسی فوجی مشن یا اسٹیبلائزیشن فورس میں خودکار شمولیت کا مطلب نہیں رکھتی۔ پاکستان کا موقف پہلے سے واضح ہے کہ وہ عالمی سیاست میںبلاک بندی سے اجتناب کرتے ہوئے توازن، اصول پسندی اور مؤثر سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، اور فلسطین کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے کے بجائےفعال کردار ادا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ف پیس

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا