Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:59:19 GMT

ڈیووس 2026: پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

ڈیووس 2026: پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر لی

پاکستان نےورلڈ اکنامک فورم 2026 میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پربورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی، جس کا مقصد فلسطین میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔
بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصدغزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی بحران کا خاتمہ اور فلسطین کی منظم و جامع تعمیرِ نو ہے۔ اس منصوبے کے تحت گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی و بجلی کے نظام کی بحالی، معاشی سرگرمیوں کی فروغ اور فلسطینی عوام کو باعزت زندگی فراہم کرنا شامل ہے۔ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کیے جائیں گے۔
پاکستان نے اس اقدام میںسعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکہ کے ساتھ شمولیت اختیار کی ہے۔ مسلم ممالک کی مضبوط موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ فلسطینی حقوق، حقِ خود ارادیت اور ریاستی تشخص مرکزی حیثیت رکھیں۔
پاکستان کا موقف بدستور واضح اور غیر متزلزل ہے:1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست، القدس الشریف اس کا دارالحکومت، اور قبضے و اجتماعی سزا کی ہر صورت مخالفت۔
تقریب کے دوران فلسطینی وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے راستے میں ملاقات کی، مصافحہ کیا اور غزہ میں امن کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت، نسل کشی کے خاتمے کی کوششوں اور فلسطینی عوام کے حق میں مضبوط موقف پر شکریہ ادا کیا۔
دستخطی تقریب میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلۂ خیال ہوا، اور صدر ٹرمپ نےفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں انگوٹھے کے اشارے سے سراہا۔ یہ پاکستان کی قیادت کی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر حاصل شدہ پذیرائی کا مظہر ہے۔
واضح رہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کسی فوجی مشن یا اسٹیبلائزیشن فورس میں خودکار شمولیت کا مطلب نہیں رکھتی۔ پاکستان کا موقف پہلے سے واضح ہے کہ وہ عالمی سیاست میںبلاک بندی سے اجتناب کرتے ہوئے توازن، اصول پسندی اور مؤثر سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، اور فلسطین کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے کے بجائےفعال کردار ادا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ف پیس

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف