وینزویلا کے بعد ٹرمپ کی نظریں اب کیوبا پر ہیں، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکی عہدیداروں نے بدھ کے روز وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ واشنگٹن اس سال کے اختتام تک کیوبا میں "ریجیم چینج" چاہتا ہے، اس کے باؤجود کہ کیوبا کے خلاف امریکہ کی طویل ناکام تاریخ اور وہاں انسانی المیے کا خطرہ موجود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وینزویلا کے بعد اب کیوبا میں رجیم چینج کی امریکی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔ امریکی عہدیداروں نے بدھ کے روز وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ واشنگٹن اس سال کے اختتام تک کیوبا میں "ریجیم چینج" چاہتا ہے، اس کے باؤجود کہ کیوبا کے خلاف امریکہ کی طویل ناکام تاریخ اور وہاں انسانی المیے کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اعتماد دو چیزوں پر ہے؛ ایک 3 جنوری طرز کا "سرجیکل حملہ" جس میں وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو اغوا کر کے ہٹایا گیا، اور دوسرا یہ کہ کیوبا کی معیشت، جو طویل عرصے سے وینزویلا کے تیل پر منحصر ہے، مادورو کے بغیر زوال پذیر ہو رہی ہے۔ امریکی انٹیلیجنس تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ کیوبا میں بار بار بجلی کی بندش، خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے، اور تقریباً 90 فیصد شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کیوبا کی ریاست کے اندر ایسے افراد کی تلاش میں ہے جو امریکی مفادات کے ساتھ تعاون کریں، ایک ایسی حکمتِ عملی جو وینزویلا سے متاثر ہے، جہاں اندرونی کرداروں نے مادورو کے خلاف بھرپور تعاون کیا تھا۔ دریں اثناء وینزویلا کا تیل بند کر کے امریکہ کیوبا کے خلاف معاشی محاصرہ بھی تیز کر رہا ہے، تاکہ دباؤ کو مزید تیز کیا جائے۔ اقتصادی ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ کیوبا میں ایندھن چند ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے کیونکہ امریکی فوج کی جانب سے وینزویلا سے منسلک آئل ٹینکروں پر قبضے صرف کاراکس کو سزا دینے کے لیے نہیں، بلکہ کیوبا کی توانائی کی شریان بھی کاٹنے کے لیے ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت کے اندر کیوبا کے معاملے پر اختلافات ہیں۔ فلوریڈا میں مقیم کیوبا کے جلاوطن سخت گیر رہنما، جو ٹرمپ کے حلیف ہیں، سات دہائیوں کی کمیونسٹ حکومت کا جارحانہ طریقے سے خاتمہ چاہتے ہیں اور وہ 1962ء سے عائد تجارتی پابندیوں کی ناکامی کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ امریکی دباؤ ناکام رہا ہے۔
تاہم ٹرمپ کسی بھی طریقے سے کیوبا کی قیادت کو گرانے کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور اسطرح وہ جان ایف کینیڈی سے آگے نکلنے کا موقف سمجھتے ہیں جو فیڈرل کاسترو کو ہٹانے میں ناکام رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی عہدیدار کھل کر کیوبا کی حکومت کو گرانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام انڈر سکریٹری جیرمی لیون نے کہا کہ کیوبا کو فیصلہ کرنا ہو گا، یا تو استعفیٰ دے یا پھر اپنے عوام کی بہتر خدمت کرے۔ دوسری جانب کیوبا کے رہنماؤں نے ان دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ کیوبا کے صدر نے اعلان کیا کہ کوئی مشروط یا غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی بات نہیں ہو سکتی، نہ کسی دانستہ جبر یا دھونس کو قبول کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وینزویلا کے کیوبا میں کیوبا کی کہ کیوبا کیوبا کے کے خلاف
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔